اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 10 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 10

10 چنانچہ آپ نے اصرار کیا کہ ابھی سواری کا انتظام کیا جائے۔میں فورا بچہ کو لے کر ڈسکہ جاتی ہوں ڈسکہ چوبیس میل کے فاصلہ پر ہے۔سحری کا وقت تھا۔فوراً دو سواریوں کا انتظام کیا گیا۔اور دونوں ماں بیٹی دو خادموں کے ساتھ رفیق کو اُسی حالت میں لے کر دا تا زید کا سے روانہ ہو گئیں۔جب کچھ روشنی ہونی شروع ہوئی تو آپ نے دیکھا کہ رفیق بالکل مُردہ سا ہو رہا ہے اور بظاہر زندگی کے آثار باقی نہیں ہیں۔فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے سمجھ لیا کہ موت کا وقت آچکا ہے۔لیکن ساتھ ہی مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ قضا و قدر کو بھی ٹال دینے پر قادر ہے۔چنانچہ میں نے گھوڑے کی باگ اُس کی گردن پر ڈال دی۔اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی کہ یا اللہ اگر اس بچے کی زندگی تجھے منظور ہے تو تیرا احسان ہے۔اور میں تیرا لاکھ لاکھ شکر کرتی ہوں۔تو جانتا ہے کہ مجھے اس بچے کی جان کی فکر نہیں۔اگر تیری رضا اس کو بلا لینے میں ہی ہے۔تو میں تیری رضا کو خوشی سے قبول کرتی ہوں۔لیکن مجھے اپنی آبرو کی فکر ہے۔اگر یہ بچہ آج فوت ہو گیا تو میرا ڈسکہ میں کوئی ٹھکانہ نہیں۔اے ارحم الراحمین تو ہی زندگی اور موت کا مالک ہے۔اگر تیرے نزدیک اس کی زندگی اتنی ہی ہے اور موت قریب ہے تو مجھ عاجز خطا کار تقصیر وا لونڈی کے حال پر رحم فرما اور میری زاری کوئن اور اس بچہ کو آٹھ دن کی اور مہلت عطا فرما۔تا اس کے دادا اسے ہنستا کھیلتا دیکھ لیں۔اور میرے سرال والوں کو یہ پتہ نہ لگ سکے کہ بچہ بیمار ہو گیا تھا۔آٹھ دن کے بعد پھر تو اسے بُلا لیجیو۔میں اسکی وفات پر اُف بھی نہ کروں گی۔فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ کتنا عرصہ میں نے یوں دُعا کی۔لیکن میں ابھی دعا ہی کر رہی تھی کہ رفیق نے میرے دوپٹہ کو کھینچا اور تندرستی کی آواز میں مجھے پکارا ” بے بے“۔اور میں نے دیکھا کہ اس نے آنکھ کھول لی ہے۔اور وہ بالکل تندرست حالت میں میری گود میں کھیل رہا ہے۔تب مجھے یقین ہو گیا کہ میرے مولیٰ نے میری بے کس کی دُعاسُن لی۔اور میرا دل اُس کے شکر سے معمور ہو گیا۔ڈسکہ پہنچے تو بچے کے دادا صاحب بہت خوش ہوئے کہ یہ لوگ وعدہ سے پہلے ہی واپس آگئے۔پوتے کو گود میں لیا اور پیار کیا۔اور ہنسی ہنسی اس سے باتیں کرتے رہے۔اور اس طرح دن گذرتے گئے۔فرماتی تھیں کہ میں دادا پوتے کو خوش دیکھ کر مسکرایا کرتی تھی کہ رفیق تو نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت ہنس رہی اور مسکرا رہی ہے۔رفیق تو خدا تعالیٰ کی نذر ہو چکا ہوا ہے۔چنانچہ پورے آٹھ دن بچہ راضی خوشی ہنستا کھیلتا اور خوش و خرم گو دتا پھد کتا پھرتا تھا۔نویں دن رفیق پر کھیلتے کھیلتے و ہی حالت