اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 204 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 204

204 سرفرازی تک آپ کا جذبہ ایثار ، ہم سے بے لوث ہمدردی ،سلسلہ کے کاموں میں آپ کا گہرا اخلاص ، آپ کی شاندار قانونی ، سیاسی ، علمی اور ادبی خدمات تاریخ احمدیت میں یقیناً ایک طویل باب کی مقتضی ہیں۔بے حد مصروفیات کے باوجود آپ انتہائی جوش تبلیغ رکھتے ہیں۔آپ کی بدولت کئی بقیہ حاشیہ : ایک چٹھی مکرم مستری اللہ بخش صاحب مرحوم کے نام دی۔اس میں امرتسر کے جلسہ کے متعلق اطلاع تھی۔چنانچہ میں نے ان کو پہنچا دی اور حضور کی خدمت میں سیالکوٹ میں اپنی اطلاع بھیجی۔حضور نے ملاقات کا موقعہ دیا اور تفصیلاً دریافت کر کے اطمینان کر لیا کہ میں نے چٹھی مستری صاحب موصوف کو پہنچا دی ہے۔مستری صاحب موصوف (بعدہ مالک اللہ بخش سٹیم پریس قادیان) نے بطور سیکرٹری تبلیغ جماعت امرتسر حضور کی خدمت میں عرض کی تھی کہ امرتسر میں بھی تقریر فرما ئیں اور حضور نے منظور فرمایا تھا۔(الحکم ۷/۲/۲۰ ص ۲ ک۳) مرزا صاحب ذکر کرتے ہیں کہ سیالکوٹ میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی طرف سے انتظام معلوم ہوتا تھا۔چنانچہ کھانے کے موقعہ پر انتظام میں میں نے بھی ہاتھ بٹایا اور بدانتظامی کو روکا جس سے وہ خوش ہوئے۔۱۴ را پریل کو حضور کی تقریر ہوئی تھی۔اس بارہ میں مستری صاحب موصوف نے الفضل میں اعلان کرا دیا تھا۔(۱۲/۴/۲۰ص از یر اخبار احمد یہ ) جلسہ کے صدر چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب تھے۔حضرت حافظ روشن علی خاں صاحب کی تلاوت کے بعد چوہدری صاحب کچھ بیان کر رہے تھے کہ ایک مخالف نے کہا کہ احمدیت کے متعلق نہ سنیں گے۔آپ نے کہا کہ جو نہ سننا چاہیں وہ باہر چلے جائیں۔تقریر ” کیا دنیا کے امن و امان کی بنیاد عیسائیت پر رکھی جاسکتی ہے یا اسلام پر تھی۔اور وزیر اعظم انگلستان مسٹر لائڈ جارج کا اعلان مد نظر تھا جو انہوں نے سال نو کے آغاز پر باشندگانِ مملکت کے نام شائع کیا تھا کہ دنیا کا امن عیسائیت سے وابستہ ہے۔حضور کو اس شوریدہ سر نے تقریر میں ٹو کا اور مع رفقاء گالیاں شروع کر دیں۔اور اشتعال انگیز طریق اختیار کیا۔حضور کو خاموش ہونا پڑا۔پھر حافظ صاحب کی تلاوت پر کچھ خاموشی ہوئی۔لیکن تقریر پر پھر شور بر پا ہوا۔پولیس ایسے لوگوں کو نکالنے پر مجبور ہوئی اور وہ گالیاں دیتے نکلے۔تقریر مکمل ہونے پر شرافت سے جلسہ سننے والوں کا صاحب صدر نے شکریہ ادا کیا۔جب حضور جلسہ گاہ سے نکلے تو ایک اینٹ زور سے ماری گئی جس سے ایک ساتھی زخمی ہوا اور سخت گندی گالیاں کی گئیں۔پھر قیام گاہ میں مخالفین دیوار پھاند کر گھس آئے۔حضور کے وہاں سے جانے کے بعد جبکہ کچھ احمدی ابھی اس مکان میں ہی تھے ، خشت باری کر کے گیس کا ہانڈا اور شیشے توڑ دئے گئے۔لوگوں نے مولوی ثناء اللہ امرتسری