اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 180 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 180

180 زبر دست امداد کی ہے۔AMCG طونس کے وزیروں نے ایک مشترکہ بیان میں چوہدری ظفر اللہ خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ طونس کی تاریخ میں چوہدری ظفر اللہ خاں کا نام ہمیشہ سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا۔لیبیا کے نمائندہ نے کراچی آکر اعلان کیا کہ ظفر اللہ خاں ہمیں اتنے محبوب ہیں کہ ہمارے ملک میں نو ز ائندہ بچوں کے نام نیک تفاؤل کے طور پر ان کے نام پر رکھے جا رہے ہیں۔“ انجام کراچی ۲٫۵۱ ۱۲٫ بحواله الفضل ۱۳/۲/۵۱) 66 جماعت احمدیہ پر خصوصی دور ابتلا (۱۹۵۱ء تا۱۹۵۴ء) مسلمانوں کے باہوش طبقہ نے ہمیشہ ہی جناب چوہدری صاحب کی خدمات جلیلہ کو بہ نظر استحسان دیکھا۔لیکن وہ لوگ جو احمدیت کے شدید مخالف تھے ہمیشہ ہی آپ کے احمدی ہونے کے باعث اظہار مخالفت کرتے تھے۔مخالفت کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ۱۹۳۲ء میں آپ کو وائسرائے کی انتظامی کونسل کا عارضی رکن مقرر کیا گیا تھا۔احرار ٹولہ کے تن بدن میں گویا آگ لگ گئی تھی۔مخالفت کے ان طوفانوں میں آپ کے پائے صبر واستقامت میں ذرہ بھر لغزش نہیں آنے پائی۔مذہبی عقائد میں آپ کے قدم کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔اور نہ ہی خدمت وطن میں آپ نے کمی آنے دی۔سیاست کے خارزار میں بادصر صر کے خوفناک اور مہیب طوفانوں میں ایمان سے پودے کی حفاظت کیلئے ہمت مردانہ درکار ہے۔حضرت مسیح فرماتے ہیں: اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔“ (متی ۱۹/۲۴) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ - ( کہ جنت نا پسندیدہ اشیاء سے گھری پڑی ہے ) اگر چہ احمدیت کو اپنے آغاز سے شدید مخالفتوں سے واسطہ پڑا اور وہ انہی کے سایہ تلے پروان چڑھتی رہی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے ساتھ تھا لیکن ۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۴ ء کا دور ابتلاء ایک خصوصی رنگ رکھتا تھا۔اور بظاہر حالات مخالفین کو یوں نظر آتا تھا کہ جماعت احمد یہ اپنے آخری دموں پر ہے اور وہ صفحہ ہستی سے