اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 176 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 176

176 کامرانیوں ، مسرتوں اور شادمانیوں کا شاہکار کہا جاسکتا ہے۔‘ ( مورخہ ۲۱ اگست ۶۵۲) مئی ۱۹۴۸ء میں سفر کے دوران میں عرب لیگ کے مقتدر لیڈروں کی درخواست پر آپ نے دمشق میں ٹھہر نا منظور کر لیا کہ یہ لیڈر فلسطین کی موجودہ صورت حال کے متعلق آپ سے مشورہ کرنا چاہتے تھے۔22 میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے ( جو اس وقت پنجاب کے وزیر خزانہ تھے ) ۱۹ مارچ ۱۹۴۸ء کو پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا: پاکستان کی تعمیر واستحکام کے سلسلہ میں حضرت قائد اعظم کے بعد میرے خیال میں جن دو بڑی شخصیتوں نے کام کیا ہے۔ان میں پہلا نام ہمارے امور خارجہ کے وزیر سر محمد ظفر اللہ خاں کا ہے۔اور دوسرا وزیر خزانہ مسٹر غلام محمد کا ہے۔سر ظفر اللہ خاں نے ساری دنیا پر آشکارا کر دیا کہ ہے۔پاکستان ایسے بلند دماغ اور شاندار مقرر اور اپنی حکومت کے سچے خادم رکھتا ہے۔جن کے سامنے دنیا کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ملت پاکستان چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کے حق میں اتنی نا شکر گزار نہیں ہوسکتی۔کہ وہ معدودے چند رجعت پسندوں کی غوغہ آرائی کے لئے گراہ ہو جائے۔اور پھر ان گنتی کے چند لوگوں کی غوغہ آرائی جو جہالت کے محدود دو معین حالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ZA السٹریٹد ویکلی پاکستان رقمطراز ہے: سلامتی کونسل میں وہ وقت بھی نہایت نازک وقت تھا۔جب اسرائیل کے معاملے میں بحث ہو رہی تھی۔بڑی طاقتیں اس مملکت کو بہر طور نواز نے پر تلی ہوئی تھیں۔جو صیہونی دہشت انگیزی کی وجہ سے وجود میں آئی تھی۔ہر قابل ذکر آدمی بول چکا تھا۔اور بولا بھی تھا دنیائے عرب کے مفادات کے سراسر خلاف۔عربوں کے ترجمان بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔لیکن ان بیچاروں پر وہی مثل صادق آ رہی تھی کہ نقار خانے میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ بڑی طاقتوں کے بلند بانگ غلغلہ میں ان کی کمزور آواز دب کر رہ گئی ہے۔’طویل القامت نحیف الجثہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں بحث کے دوران میں خاموش بیٹھے دیکھ رہے تھے۔انہوں نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔اور نہ ہی کچھ کہنے کا ارادہ تھا۔کیونکہ وہ اس مسئلہ میں جو کچھ کہنا چاہتے تھے پہلے ہی کہہ چکے تھے۔انہیں نظر آرہا تھا کہ جب سلامتی کونسل دل میں پہلے ہی فیصلہ کر