اصحاب احمد (جلد 11) — Page 170
170۔نہیں رہ سکتا تو احساس ہوتا ہے کہ یہ مسلم کہلانے والے عداوت میں ان سے بھی بڑھ گئے ہیں۔یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ آپ مختلف عہدہ ہائے جلیلہ پر جو کامیاب طور پر فائز رہے ہیں۔یہ کامیابی بغیر محنت شاقہ کی عادت کے ممکن نہیں تھی۔آپ کے وائسرائے کی کونسل کا ممبر مقرر ہونے پر غیر مسلم اعلیٰ طبقہ نے جو خراج ہائے تحسین آپ کو پیش کئے تھے۔وہ پہلے درج کئے جاچکے ہیں۔مشرقی پنجاب کا غیر مسلم روز نامہ ” پرتاپ جالندھر جو اپنی متعصب اور مسلم کش پالیسی کے لئے اپنی مثال نہیں رکھتا چوہدری صاحب کی محنت کی عادت کا کئی بار اقرار کر چکا ہے۔چنانچہ ۲ / دسمبر ۱۹۵۷ء کے اداریہ میں وہ لکھتا ہے : جب پہلی مرتبہ کشمیر کا کیس یو این او میں پیش ہوا۔تو شری گوپال سوامی آئینگر وہاں بھارت کی ترجمانی کر رہے تھے۔جب فتویٰ بھارت کے خلاف دیا گیا تو ایک امریکن مبصر نے وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارتی نمائندہ رات کو نو بجے بستر میں سویا ہوتا ہے۔اور پاکستانی نمائندہ سرظفر اللہ کا اس وقت دن چڑھتا ہے۔جب مسلمان کہلانے والوں نے چوہدری صاحب کی ایک معاملہ میں طویل تقریروں کو بے کار قرار دیا۔تو ” پرتاپ بار ہا اس امر کا اقرار کر چکا ہے کہ ہم مستغیث بن کر گئے تھے لیکن ملزم بن کر لوٹے۔اس معاملہ نے اور ہی رخ اختیار کر لیا۔گویا اس کے نزدیک یہ سارا کرشمہ چوہدری صاحب کی ذہانت اور محنت اور دماغ سوزی اور دلیل آرائی کا ہے۔اس محنت کی تصدیق سید احمد شاہ بخاری مرحوم کے مکتوب ۱۹۵۰ء سے ہوتی ہے۔مرحوم مجلس اقوام میں پاکستان کے مستقل مندوب تھے۔وہ۱۹۵۰ ء کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔جنرل اسمبلی کا زمانہ آ گیا۔ڈیلی گیٹوں کا قافلہ پاکستان سے آن پہنچا۔صبح نو بجے سے شام کے سات بجے بلکہ آٹھ بجے تک لیک سکسیس ہی رہتے تھے۔جو یہاں سے ہیں میل کے فاصلے پر ہے۔دن کم و بیش نماز فجر سے شروع ہوتا تھا۔کیونکہ ظفر اللہ خاں صاحب جو یہاں سے بھی تھیں میل دور رہتے ہیں۔باوجود اس فاصلے کے صبح نو بجے سب سے پہلے آن پہنچے تھے۔سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون مدیر ریاست دہلی رقمطراز ہیں : چوہدری صاحب ایک بلند ترین شخصیت ہیں۔ہندوستان اور پاکستان میں کم ایسے لوگ ملیں گے ، جو آپ کے کریکٹر۔اخلاق اور جرأت کا مقابلہ کر سکیں۔جولوگ چوہدری سر ظفر اللہ خاں کو ذاتی طور پر جانتے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ آپ ایک غیر معمولی شخصیت ہیں جو کسی اصول کے لئے بڑی 66