اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 168 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 168

168 دو " بھی مناسب نہ ہوگی کہ سر ظفر اللہ خاں کو اس جلیل الشان عہدے پر مامور کیا جائے۔جماعت اہلحدیث کا خصوصی تر جمان ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور لکھتا ہے: ملک وملت کے بہی خواہوں کے ایک بڑے طبقہ کی رائے آج بھی یہی ہے کہ سر ظفر اللہ اپنی سیاسی اور فکری تربیت کے لحاظ سے پاکستان کی نمائندگی کے لئے قطعاً موزوں شخصیت نہیں ہے۔اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ وہ جس مکتب فکر (یعنی قادیانیت۔ناقل ) سے تعلق رکھتے ہیں۔خود اس میں کوئی جان نہیں ہے۔معاصر کوثر میں آپ کے متعلق یہ کہا گیا۔کہ یہ بدقسمتی ہے کہ آپ جیسے نااہل کے سپرد قلمدان وزارت کیا گیا ہے۔اواخر دسمبر ۱۹۵۷ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے ”اسلامی مذاکرہ کی صدارت کے لئے آپ کا نام تجویز ہوا۔اس کی مجلس منتظمہ کے ایک رکن مولانا مودودی صاحب بھی تھے۔بھلا وہ کیوں مخالفت نہ کرتے۔انہوں نے در پردہ آپ کی صدارت کی مخالفت کی۔ان حالات کے پیش نظر چوہدری صاحب نے صدارت کے متعلق معذرت کر دی۔تعجب ہے کہ ایک طرف مودودی خیال ہفت روزہ ایشیا اس امر کی تغلیط کرتا ہے کہ مجلس اسلامی مذاکرہ میں یہودی، عیسائی اور منکرِ حدیث اور تجدید پسند اور متفرنج مسلمان اسلام کو مسخ کر دیں گے۔اور دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ مذاکرہ کے معنی ہی یہ ہیں کہ مختلف طرز پر سوچنے والے لوگ اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر کو ایک مجلس میں پیش کریں۔اور یہ بھی لکھا کہ اس میں صحیح الفکر اصحاب بھی شامل ہیں۔لیکن دوسری طرف اسی ایشیا نے محترم چوہدری صاحب کی صدارت پر اعتراض کو بجا قرار دیا۔(الفضل ۱۵/۱/۵۷) / م مولانا عبد الماجد صاحب دریا بادی ہفت روزہ صدق جدید لکھنو مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۵۸ء ” میں رقمطراز ہیں : قادیانیت کو زک“ کے عنوان سے جماعت اسلامی پاکستان کے ایک مشہور نقیب کے ایڈیٹوریل سے : مذاکرہ (لاہور) کے ایک اجلاس میں چوہدری سر ظفر اللہ صاحب کو صدارت دی جا رہی تھی۔پہلے تو اس سے نجات ہوئی۔پھر اندیشہ تھا کہ اسلم صاحب (پرنسپل ٹریننگ کالج ) اپنے مقالہ میں قادیانی ذہنیت کا انعکاس پیش فرمائیں گے۔لیکن یہ مقالہ بھی ساقط ہو گیا۔مجلس مذاکرہ کی مجموعی فضا اس کی