اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 162 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 162

162 لگاؤ ہے۔اگر تم ان کے ساتھ میری ملاقات کا وقت مقرر کرا دو۔اور وائسرائے بھی اس وقت موجود ہوں۔تو میں ان کے سامنے بیان کروں کہ سلسلہ کے ساتھ حکومت کی طرف سے کیسا سلوک ہو رہا ہے۔اور اب اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لخت جگر پر ایک آوارہ آدمی نے حملہ کر دیا ہے۔میں اب بوڑھی عورت ہوں میرے متعلق تو پردہ کی بھی کوئی سخت پابندی نہیں اور میرے دل میں یہ بار بار اٹھتی ہے کہ میں وائسرائے کے سامنے جا کر یہ شکوہ کروں۔میں نے کہا ملاقات کا انتظام تو میں کرادوں گا۔اور ترجمانی کے لئے بھی ساتھ چلوں گا۔لیکن بات ساری آپ نے خود ہی کرنی ہوگی۔میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔ورنہ وہ خیال کریں گے کہ میں آپ کو سکھا کر لایا ہوں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔تم وقت مقرر کرا دو۔بات کرنے کی ہمت اللہ تعالیٰ مجھے عطا کر دے گا۔چنانچہ میں نے وائسرائے صاحب سے ذکر کیا۔انہوں نے کہا ، بڑی خوشی سے تشریف لا ئیں۔وقت مقررہ پر ہم دونوں وائسرائے اور لیڈی ولنگڈن کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔مزاج پرسی کے بعد وائسرائے صاحب نے کہا۔ظفر اللہ خاں نے مجھے کہا ہے کہ آپ اپنی جماعت کے متعلق مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتی ہیں۔والدہ صاحبہ اور لیڈی ولنگڈن ایک صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔لیڈی ولنگڈن کی دائیں طرف وائسرائے ایک آرام کرسی پر بیٹھے تھے۔اور والدہ صاحبہ کی بائیں طرف خاکسار ایک دوسری آرام کرسی پر بیٹھا تھا۔لیڈی ولنگڈن کا معمول تھا کہ جب والدہ صاحبہ کے پاس بیٹھی تھیں تو ایک بازو والدہ صاحبہ کی کمر کے گرد ڈال لیا کرتی تھیں۔اور بالکل ان کے ساتھ مل کر بیٹھا کرتی تھیں۔اب بھی یہ دونوں ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔لیڈی ولنگڈن کسی کسی وقت اپنے فارغ ہاتھ سے والدہ صاحبہ کے ہاتھ بھی دباتی جاتی تھیں۔وائسرائے کے سوال کرنے پر والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ہاں میں نے بہت غور کے بعد آپ تک پہنچنے کی جرات کی ہے۔میں احمدیہ جماعت کی ایک فرد ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے جو ہمارے سلسلہ کے بانی تھے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم سلطنت برطانیہ کے وفادار ر ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے رہیں۔کیونکہ اس کی عملداری میں ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے اور ہم بغیر خوف وخطر کے اپنے دین کے احکام بجالا سکتے ہیں۔باقی تمام جماعت کے متعلق تو نہیں کہ سکتی لیکن اپنے متعلق وثوق سے کہہ سکتی ہوں (یہاں والدہ صاحبہ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا ) کہ