اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 160 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 160

160 آواز سے والد صاحب کو بلایا۔والدہ صاحبہ نے مجھ سے فرمایا۔کہہ دو چوہدری صاحب گھر پر نہیں ہیں۔میں نے یوں ہی کہہ دیا۔ان صاحب نے دریافت کیا کہاں ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔کہہ دو قادیان گئے ہوئے ہیں۔یہ سن کر ان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں کوئی خلاف ادب کلمہ کہا۔اب تک تو والدہ صاحبہ میری معرفت جواب دے رہی تھیں۔یہ کلمہ سنتے ہی غصہ سے بے تاب ہو گئیں اور کھڑکی کے پاس جا کر جوش سے ان صاحب سے کہا: تم نے بہت ظلم کیا ہے۔اگر خیریت چاہتے ہو تو اسی وقت میرے مکان سے نکل جاؤ۔کوئی ہے ملازم یہاں ؟ نکال دو اس گستاخ بڑھے کو۔اور یاد رکھو پھر کبھی یہ اس مکان میں داخل نہ ہونے پائے۔اب آلے اس کا دوست جس کے ساتھ یہ مثنوی پڑھنے کے لئے یہاں آتا ہے تو لوں گی اس کی خبر کہ ایسے بے ادب گستاخ کے ساتھ کیوں نشست برخاست رکھی ہوئی ہے۔“ وہ صاحب تو اسی وقت چلے گئے۔والد صاحب کی واپسی پر والدہ صاحبہ نے بہت رنج کا اظہار کیا اور اصرار کیا کہا اب وہ صاحب کبھی ہمارے مکان کے اندر داخل نہ ہوں۔چنانچہ اس دن کے بعد پھر وہ ہمارے مکان پر نہیں آئے۔یہ حالت تو ابتدائے عشق کی تھی۔پھر جوں جوں وقت گذرتا گیا۔غیرت بھی بڑھتی گئی۔خاندان نبوت کے ساتھ جس قدرا خلاص اور محبت انہیں تھی۔اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ با رہا میں نے ان سے سنا ہے کہ میں کبھی کوئی دعا نہیں کرتی ، جب تک پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام خاندان کے لئے دعا نہیں کر لیتی۔خاندان حضرت مسیح موعود کے ساتھ شدید محبت : " حضرت خلیفة المسیح الثانی ( ایدہ اللہ بنصرہ) کے ساتھ انہیں حد درجہ عقیدت تھی۔اور انتہاء کی محبت تھی۔آپ کا کوئی ارشاد پہنچ جاتا ، فوراً اس پر کار بند ہوجاتیں۔اور حضور بھی خصوصیت سے شفقت کا سلوک ان کے ساتھ روا رکھا کرتے تھے۔بعض دفعہ وفور محبت میں وہ حضور کے ساتھ بالکل ایسے کلام کر لیتیں تھیں جیسے ماں اپنے بچوں کے ساتھ کرتی ہے۔اور حضور بھی ان کی دلجوئی کی خاطر بعض اوقات لمبا عرصہ ان کی باتیں سنتے رہتے تھے۔والدہ صاحبہ کا ایک رؤیا خصوصیت سے اس تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔چار پانچ سال کا