اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 159 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 159

159 ” جب مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تو فرمایا کہ ظہر کا وقت ہو چکا تھا۔میں نے نماز میں پھر بہت دعا کی۔کہ یا اللہ میں ایک عاجز عورت ہوں۔تو ہی اس موقعہ پر میری مددفرما۔اور میں نے یہ بھی دعا کی کہ میرے بیٹے عبداللہ خاں اور اسد اللہ خاں قصور اور لاہور سے جلد پہنچ جائیں۔( خاکساران دنوں انگلستان میں تھا) نماز سے ابھی فارغ ہوئی تھی کہ عبداللہ خاں اور اسداللہ خاں موٹر میں پہنچ گئے۔مجھے دیکھتے ہی انہوں نے دریافت کیا۔آپ اس قدرا فسردہ کیوں ہیں؟ میں نے تمام ماجرا ان سے کہہ دیا۔اور کہا تم دونوں اس معاملہ میں میری مدد کرو۔انہوں نے کہا جیسے آپ کا ارشاد ہو۔چنانچہ ساہوکار آیا۔اور والدہ صاحبہ نے اس کے ساتھ مقروض کے حساب کا تصفیہ کیا۔ساہوکار نے بہت کچھ حیل و حجت کی۔لیکن والدہ صاحبہ نے اصل رقم پر ہی فیصلہ کیا۔اور پھر سا ہو کار سے کہا کہ یہ رقم میں خود ادا کروں گی۔تم فوراً اس کے مویشی و پس لا کر اس کے حوالہ کرو۔پھر تصفیہ شدہ رقم یوں فراہم کی کہ جس قدر اپنے پاس روپیہ موجود تھاوہ دیا۔اور باقی اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ پیش کریں۔جب مویشی کسان کو واپس مل گئے۔تو اس کے بیٹے سے کہا۔جاؤ اب جا کر اپنی بچھڑی پکڑ لو۔اب کوئی تم سے نہیں لے سکتا۔پھر اپنے بیٹوں کو دعائیں دیں کہ تم نے میرا غم دور کیا۔اب میں چین کی نیند سو سکوں گی۔“ سلسلہ کے متعلق غیرت : لیکن ان وقعات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا والدہ صاحبہ کو سلسلہ کے متعلق غیرت نہ تھی خلاف حقیقت ہو گا۔سلسلہ کے متعلق انہیں انتہاء درجہ کی غیرت تھی۔اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، سلسلہ احمدیہ، خاندانِ نبوت اور بزرگان سلسلہ کے متعلق کسی قسم کی گستاخی یا ناروا حرکت برداشت نہ کر سکتی تھیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ جس زمانہ میں والد صاحب سلسلہ میں داخل ہوئے ،انہیں مثنوی مولانا روم سے بہت دلچسپی تھی۔اور فرصت کے وقت ایک صاحب کے ساتھ جو بظاہر صوفیانہ اور فقیرانہ طرز رکھتے تھے مثنوی پڑھا کرتے تھے۔ایک دفعہ یہ صاحب کسی تعطیل کے دن ہمارے مکان پر تشریف لائے اور دریافت کیا کہ والد صاحب کہاں ہیں؟ دفتر میں شاید اس وقت کوئی محرر یا ملازم موجود نہیں تھا۔ان صاحب نے خیال کیا کہ شاید والد صاحب پہلی منزل پر ہوں۔انہوں نے بلند