اصحاب احمد (جلد 11) — Page 156
156 ہے۔اور جو دو ساتھی اس کے باہر سے پکڑے گئے وہ رہا ہو جانے چاہئیں۔مجسٹریٹ نے ان سب کو ایک ایک سال کی قید کی سزا دی۔اب والدہ صاحبہ کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کس طرح ان لوگوں کی سزا میں تخفیف ہو۔اس اثناء میں خاکسار انگلستان سے واپس آ گیا۔مجھے سارا ماجراوالدہ صاحبہ نے سنایا۔اور فرمایا تم کوشش کرو کہ ان لوگوں کی سزا میں تخفیف ہو جائے۔میں نے عرض کی کہ یہ تو میرے اختیار کی بات نہیں۔ان کی اپیل عدالت سیشن میں دائر ہے یہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ لوگ مجھ پر اعتماد کریں تو میں ان کی طرف سے بلا فیس ان کی اپیل کی پیروی کروں۔ممکن ہے کہ حج یہ خیال کر لے کہ جب اسی کے گھر میں یہ چوری کی نیت سے داخل ہوئے تھے اور یہی ان کی طرف سے وکالت کرتا ہے۔تو ان کی سزا میں کم سے کم تخفیف کر دینی چاہیئے۔لیکن ساتھ ہی یہ قباحت بھی ہوگی کہ مجھے عزیز اسداللہ خاں اور اپنے ملازموں کی شہادت پر تنقید کرنی پڑے گی۔اور ممکن ہے کہ حج یہ خیال بھی کرے کہ عجب آدمی ہے۔روپے کے طمع میں یہ کارروائی کر رہا ہے۔اسے تو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ میں کس وجہ سے ان لوگوں کی وکالت کر رہا ہوں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ یہ طریق ٹھیک نہیں۔کوئی اور طریق تجویز کرو۔میں نے عرض کی کہ اگر ان کی اپیل نامنظور ہوگئی۔اور ہائی کورٹ سے بھی ان کی سزا میں تخفیف نہ ہوئی تو پھر یہ ہو سکتا ہے کہ میں گورنر صاحب کی خدمت میں عرض کروں کہ ان کی سزا میں تخفیف کر دیں۔والدہ صاحبہ نے بتایا کہ وہاں بھی تمہیں یہ بتانا پڑے گا کہ میری خواہش کے مطابق تم ان سے کہہ رہے ہو۔میں نے کہا۔یہ تو کہنا ہی پڑے گا۔فرمانے لگیں یہ طریق بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔اچھا اگر کوئی اور صورت نہیں تو میں ان لوگوں کے لئے دعا کروں گی کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔چنانچہ جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہ ہوا۔ان کے لئے دعا کرتی رہیں۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی اپیل کا فیصلہ عین والدہ صاحبہ کی خواہش کے مطابق ہو گیا۔جب والدہ صاحبہ نے یہ سنا تو بہت 66 خوش ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان غریبوں پر رحم فرمایا۔“ ہمدردی بنی نوع انسان بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اور رحم کا جذبہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت وافر عطا فرمایا