اصحاب احمد (جلد 11) — Page 155
155 کی نظر پڑی۔جہاں عمارت کا کام ہو رہا تھا۔ایک معمارا اتفاق سے اس وقت اپنے ہاتھ سے ہمارے زنانہ صحن کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ایک مزدور ا سکے پاس کھڑا تھا۔والدہ صاحبہ نے اس واقعہ کی تفاصیل خاکسار کو سنائیں تو اس حصہ کے متعلق فرمایا کہ ایک لحظہ کے لئے میرے دل میں خیال گذرا کہ شاید یہ معمار ہمارے مکان کی طرف اشارہ کر کے اس مزدور کو اس بات پر آمادہ کر رہا ہے کہ موقعہ پا کر رات کے وقت وہ چوری کے لئے ہمارے مکان میں داخل ہوں۔لیکن اس خیال کے ساتھ ہی میرے دل نے مجھے ملامت کی کہ میں نے ان غریب کاریگروں پر خواہ مخواہ بدظنی کیوں کی۔چنانچہ میں نے اسی وقت استغفار کیا۔اور اللہ تعالیٰ سے اس لغزش کی معافی چاہی۔اسی رات میں زنانہ برآمدہ میں سورہی تھی کہ میں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص آکر میرے پلنگ کے کنارے پر بیٹھ گیا ہے۔اس شخص نے مسہری اٹھا کر میرے بازو کو ہاتھ ڈالنا چاہا۔گویا میرے کنگن کو پکڑنا چاہتا تھا۔میں اٹھ کر بیٹھ گئی اور دریافت کیا کہ تم کون ہو۔اور ساتھ ہی آواز دی کہ کوئی شخص اٹھ کر بجلی روشن کر دے۔میری آواز سن کر یہ شخص گھبرا گیا اور پلنگ سے اٹھ کھڑا ہوا۔روشنی ہونے پر وہ صحن میں چلا گیا۔میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی اور بظاہر سختی سے اسے سرزنش کرنی شروع کی کہ تم کون ہو۔اور تمہارا مکان کے اندر زنانے حصہ میں آنے کا کیا حق ہے۔وہ کچھ مبہوت سا ہو کر پیچھے ہٹتا چلا گیا اور میں آگے بڑھتی گئی۔اور ساتھ ساتھ بلند آواز سے ملازموں کو بھی بلانے کی کوشش کرتی جاتی تھی ، گو میرا دل خوف کے مارے دھڑک رہا تھا۔اور میں جانتی تھی کہ یہ شخص ایک تھپڑ یا ضرب سے میرا خاتمہ کر سکتا ہے۔لیکن اللہ تعالی نے مجھے ہمت عطا کی اور میں صحن کے آخری حصہ تک اس کے پیچھے پیچھے چلی گئی۔اتنے میں میری آواز سن کر مردانہ حصہ سے عزیز اسد اللہ خاں اور ملازم آگئے۔اور انہوں نے اس شخص کو گرفتار کر لیا اور اس کے دو ساتھیوں کو بھی جو باہر باغ میں اس کی انتظار کر رہے تھے۔تعاقب کر کے تھوڑی دور جاکر پکڑ لیا۔یہی وہ معمار اور مزدور تھے جنہیں ظہر یا عصر کے وقت میں نے آپس میں اشارے کرتے دیکھا تھا۔جب ان لوگوں کا چالان ہوا تو والدہ صاحبہ کی طبیعت میں رحم کا جذ بہ غالب ہونے لگا۔بار بار کہتیں کہ میں چاہتی ہوں کہ ان غریبوں پر سختی نہ ہو۔مزدور لوگ ہیں۔معلوم نہیں کہ کس انگیخت میں آکر انہوں نے یہ فعل کیا۔جو شخص مکان کے اندر داخل ہوا۔وہ تو مجھ جیسی بڑھیا کے سامنے سہم گیا تھا۔خود ہی تجویز کرتی رہیں کہ مکان کے اندر آنے والے کے لئے تو تین چار ماہ کی قید کافی سزا وو