اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 147 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 147

147 66 گی۔میں چاہتا ہوں کہ امتحان سے پہلے قرآن کریم کا ترجمہ تم ختم کرلو۔اس لئے بجائے مسجد میں جا کر پڑھنے کے مجھ سے ہی پڑھ لیا کرو۔اس طرح باقاعدگی سے پڑھ سکو گے اور جلد ختم کر سکو گے۔“ چنانچہ اس کے بعد میں دن کے وقت میں دو تین رکوع کا ترجمہ دیکھ چھوڑتا تھا اور عشاء کے بعد والد صاحب کو سنا دیا کرتا تھا۔اس طرح کا لج میں داخل ہونے سے پہلے آپ نے مجھے قرآن کریم کا سادہ ترجمہ ختم کرا دیا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ اپنے تمام فرائض کو والد صاحب بہت پابندی اور توجہ کے ساتھ ادا فرمایا کرتے تھے۔اپنے پیشے میں بہت نیک نام اور کامیاب تھے۔اپنی طبیعت کے لحاظ سے دیوانی کام کو پسند کرتے تھے۔دیوانی کام میں سے زمین کے مقدمات میں بہت مہارت رکھتے تھے۔فوجداری کام کی طرف طبیعت میں زیادہ رغبت نہیں تھی۔فرماتے تھے فوجداری کام میں اس لئے بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کا میرے اعصاب پر بہت بوجھ پڑتا ہے۔اہم فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران میں میں سو نہیں سکتا۔” جب میں نے لاہور کام شروع کیا تو مجھ سے فرمایا۔ہمیشہ یادرکھنا کہ جو شخص تمہیں اپنی طرف سے وکیل مقرر کرتا ہے، وہ ایک امانت تمہارے سپرد کرتا ہے۔اس امانت کا حق پورے طور پر ادا کرانے کے لئے تم اللہ تعالیٰ کے روبرو ذمہ دار ہو۔اس ذمہ داری کی ادائیگی کے متعلق آپ کا اپنا معیار بہت بلند تھا۔مندرجہ ذیل دو واقعات سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ہمارے دادا صاحب کی وفات کے بعد چند سال والد صاحب کا یہ معمول رہا تھا کہ ہر اتوار کے دن ڈسکہ جایا کرتے تھے۔تا کہ خاندانی امور اور جائیداد کی دیکھ بھال بھی کر سکیں اور اپنی والدہ ماجدہ اور اپنے چھوٹے بھائی کی صحبت میں کچھ وقت گزار سکیں۔ان دنوں ڈسکہ اور سیالکوٹ ، اور ڈسکہ اور سمبڑیال کے درمیان کی سڑکیں دونوں کچی تھیں۔سیالکوٹ اور ڈسکہ کے درمیان سفر کچی سڑک پر اتنے کی سواری کے ذریعہ ہوتا تھا۔پندرہ سولہ میل کا فاصلہ اڑھائی تین گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔والد صاحب عموماً ہفتہ کے دن کچہری کے کام سے فارغ ہونے کے بعد سیالکوٹ سے روانہ ہوا کرتے تھے اور اتوار کے دن عصر اور مغرب کے درمیان ڈسکہ سے واپسی کے سفر پر روانہ ہوا کرتے تھے۔بعض دفعہ ڈسکہ میونسپل کمیٹی کے اجلاس میں شمولیت کی وجہ سے روانگی مغرب کے بعد تک ملتوی ہو جاتی تھی۔ایک دفعہ سردیوں کے موسم میں اتوار کا تمام دن بارش ہوتی رہی۔والد صاحب کو روانہ ہونے میں دیر