اصحاب احمد (جلد 11) — Page 135
135 متعدد مرتبہ وقوع میں آیا جو لوگ دفاتر کے کام سے واقفیت رکھتے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ اپنا آدمی دینے میں اہلِ صیغہ کس قدر انقباض کیا کرتے ہیں۔ساتواں امر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے احکامات کی اطاعت ہے اس کے لئے کسی مثال کی ضرورت نہیں۔اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے تجربہ میں آیا ہے کہ بحیثیت میر مجلس صدر انجمن احمد یہ اور ناظر اعلی قریباً روزانہ زبانی یا تحریری متعدد ہدایات حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے چوہدری صاحب کو ملتی تھیں۔جن کی تعمیل کما حقہ، پوری کوشش اور ہمہ تن توجہ سے چوہدری صاحب فرماتے تھے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ان سات انتظامی امور کے علاوہ چوہدری صاحب کی بعض ذاتی خوبیاں بھی قابلِ تذکرہ ہیں۔آپ نماز با جماعت کے نہایت پابند تھے نماز جس خشوع و خضوع اور اطمینان سے پڑھتے تھے ، وہ دیکھنے والوں کو معلوم ہے۔آپ نے بڑھاپے میں قرآن مجید حفظ کیا تھا۔قرآن کے مطالب و معانی کے حصول کا آپ کو بہت شوق تھا۔چنانچہ ایک دفعہ امرتسر میں مجھے فرمایا کہ مجھے کوئی قرآن پڑھا دے تو میں اس کے پاس رہ پڑنے کو تیار ہوں، گھر بھی نہ جاؤں گا۔آپ نہایت متین تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو علاوہ دنیوی انعامات عزت ، وجاہت ، دولت اور اولاد کے قرآن کے حفظ اور حج بیت اللہ اور پھر سب سے بڑھ کر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت مالی و قالی و حالی کی توفیق عطا فرمائی۔اور پھر بعد وفات سینکڑوں آدمیوں کا خلوص قلب سے دعاء مغفرت کرنا اور حضرت خلیفہ امسیح کا جنازہ پڑھنا اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہونا ، یہ ایسے انعامات ہیں کہ بہت کم لوگوں کو ان سے حصہ ملتا ہے۔این سعادت بزور بازو نیست تانه بخشد خدائے بخشنده بالآخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرما کر اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور آپ کے متعلقین کو صبر جمیل عطا فرما کر آپ کے قدم بقدم چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا سب کا انجام بخیر ہو۔آمین ثم آمین۔“ (مورخہ ۱۷/۹/۲۶)