اصحاب احمد (جلد 11) — Page 126
126 آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔کیسے مہربان اور پاکیزہ ہمارے افسر تھے۔جو اس جہان سے چلے گئے۔اور ہم اب ایسے افسران کو ترستے ہیں۔مقبرہ بہشتی کے دفتر کے محصل وصایا چوہدری فضل احمد صاحب دور ونزدیک کے حضرت چوہدری صاحب کے رشتہ دار تھے اور دارالعلوم میں حضرت چوہدری صاحب کے مکان کے نچلے حصہ میں رہتے تھے۔اور خود چوہدری صاحب مرحوم بالا خانہ پر قیام رکھتے تھے۔ایک دفعہ کسی وصیت کی وصولی کے سلسلہ میں ایک شیشم کا صندوق دیہاتی طرز کا بنا ہوا آیا۔اس پر پیتل کے گول گول پترے بھی لگے ہوئے تھے۔چوہدری فضل احمد صاحب نے کہا کہ یہ صندوق مجھے دے دیا جائے۔میں نے اس کا ذکر حضرت چوہدری صاحب مرحوم سے کیا تو آپ نے فرمایا: اس صندوق کو نیلام عام میں فروخت کیا جائے۔“ نیلام عام میں چوہدری فضل احمد صاحب نے بھی بولی دے دی۔حسن اتفاق سے یہ نیلام عام چوہدری فضل احمد صاحب کے نام پر ختم ہوا۔چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم نے اس کی رقم اپنی گرہ سے دے دی جو داخل خزانہ صدرانجمن احمد یہ ہوگئی اور صندوق چوہدری فضل احمد صاحب کو دے دیا گیا۔“ (۹) محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجہ ( ربوہ ) بیان فرماتے ہیں : چوہدری نصر اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ ۱۹۱۷ ء میں ناظر اعلیٰ مقرر ہوئے۔ان کے ساتھ مجھے بحیثیت ناظر تعلیم و تربیت ، ناظر امور عامه و خارجہ اور ناظر دعوۃ و تبلیغ اور ناظر تالیف و تصنیف کے عہدوں پر کام کرنے کا موقعہ ملا۔اس عرصہ کے دوران ان کی بعض باتیں جو ان کے فرض منصبی کے گہرے احساس سے متعلق رکھتی ہیں۔اور مجھے اب تک یاد ہیں اور بھلائی نہیں جاسکتیں۔وہ ذیل میں لکھتا ہوں۔عمر کے لحاظ سے میں ان دنوں جواں سال تھا۔اور ان کے سامنے ایک بچہ تھا۔اور آپ کا سلوک میرے ساتھ نہایت درجہ محبت کا تھا۔آپ مجھ سے بعض باتیں بڑی بے تکلفی سے فرماتے ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ جب میں سیالکوٹ میں عدالت سے فارغ ہو کر باہر شیشم کے درختوں کے نیچے بیٹھتا تھا اور دوسرے دوست بھی آجاتے اور الفضل پہنچتا تھا تو میں اسے پڑھ کر خیال کرتا۔اور کبھی کبھی اس کا