اصحاب احمد (جلد 11) — Page 125
125 ” بے بے جی کر کے پکارتے تھے، ایک واقعہ درج کر دیا جائے۔آپ بھی بہت محبت اور پیار کرنے والی تھیں۔ایک دفعہ میں سلسلہ کے کسی کام کیلئے شملہ گیا۔ان ایام میں محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی شملہ میں غالبا وائسرائے کی کونسل کے ریلوے ممبر تھے۔میں آپ کی ملاقات کے لئے آپ کی کوٹھی پر چلا گیا۔اور مل کر واپس آنے لگا، تو حضرت ” بے بے جی“ نے جو وہاں موجود تھیں۔مجھ سے مخاطب ہو کر دریافت فرمایا۔” پتر چائے پی لی؟ میں نے کہا نہیں۔( تین چار بجے بعد دوپہر کا وقت ہوگا ) اس پر آپ نے ایک دوسرے بیٹے کو جو د ہیں موجود تھے ، بہت ناراضگی کے لہجہ میں فرمایا۔”ہماری زندگی میں تم ان سے یہ سلوک کرتے ہو، ہماری وفات کے بعد تم ان سے کیا سلوک کرو گے۔“ اس پر ان صاحبزادہ صاحب نے مجھے باصرار بٹھایا اور پر تکلف چائے وغیرہ سے تواضع کی۔ایک دفعہ چوہدری صاحب نے میری ترقی کی سفارش کی اور صدرانجمن احمد یہ میں یہ معاملہ پیش ہوا۔لیکن فیصلہ یہ ہوا کہ میرے ایک لڑکے کو پانچ روپے ماہوار وظیفہ تعلیمی امداد دیا جائے۔ان ایام میں بعد نماز عصر مسجد اقصی میں درس قرآن مجید ہوتا تھا۔چوہدری صاحب مرحوم جب مسجد اقصٰی میں داخل ہوئے تو اس وقت اتفاق سے میں بھی چوہدری صاحب کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا۔مسجد اقصی کے دوسرے دروازہ سے مکرم قاضی محمد عبد اللہ صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول داخل ہوئے۔اور ہم تینوں مینار کے پاس اکٹھے ہو گئے تو چوہدری صاحب نے قاضی صاحب سے فرمایا کہ میں نے آپ سے ایک عرض کرنی ہے۔اگر آپ قبول کریں تو میں عرض کروں۔اس پر قاضی صاحب نے فرمایا، آپ ناظر اعلیٰ ہیں اور میں ہیڈ ماسٹر، آپ جو فرمائیں گے میں بسر و چشم اس کی تعمیل کروں گا۔آپ نے کہا کہ میں نے آج اپنے منشی ( شیخ محمد الدین صاحب) کے فلاں لڑکے کا انجمن سے پانچ روپیہ ماہوار وظیفہ منظور کرایا ہے۔یہ وظیفہ آپ اسے دیتے رہیں ، اور اس کی فیس بھی معاف کر دیں۔اور لڑ کا گھر پر ہی رہے گا۔چنانچہ قاضی صاحب نے ایسا ہی کیا۔دو یہ امر قابل ذکر ہے کہ میں نے اب سے اپنے لڑکے کے وظیفہ کے لئے یا فیس کی معافی کے لئے کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔یہ چوہدری صاحب کی مہربانی ، محبت اور پیار کا نتیجہ تھا۔اور وہ خود بخود خیال رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور احسان سے ان کے درجات بلند فرمائے ، اور جنت میں ان کو اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔مجھے جب آپ کے احسان یاد آتے ہیں تو محبت کی وجہ سے بے اختیار میری