اصحاب احمد (جلد 11) — Page 124
124 ہو چکا تھا اور جب بحث شروع ہوئی تو حضور نے فرمایا۔چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی صریح نص نکل آئی ہے۔‘ اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔میں اس موقعہ پر اس بات کے لکھنے سے بھی رک نہیں سکتا کہ جن ایام میں لوگ اعتراض کر رہے تھے کہ وصیت کے مفہوم کے خلاف کیا جارہا ہے۔ان ایام میں خاکسار ایک دن مقبرہ بہشتی میں غمگین بیٹھا تھا اور طبیعت میں گھبراہٹ تھی کہ لوگوں کا اعتراض تو صحیح معلوم ہوتا ہے۔رسالہ الوصیت اور ضمیمہ الوصیت میں کہیں حصہ آمد دینے کا ذکر نہیں صرف مترو کہ جائیداد کا ذکر ہے اور قرآن مجید کی آیت وَإِذَا حَضَرَ اَحَدُ كُمُ الْمَوْتَ إِنْ تَرَكَ خَيْرٌ الوَصِيَّتٍ میں بھی ترکہ کا ذکر ہے۔اس وقت دفتر میں بیٹھے بیٹھے میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی طبیعت میں اضطرار اور بے چینی تھی تو میرے دل میں ڈالا گیا کہ بہشتی مقبرہ میں جانے کے لئے یہ حکم ہے۔اِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ - اَنْفُسَهُمُ سے یہ مراد ہے کہ جو لوگ کماتے ہیں اس کا بھی حصہ اور امُوا لَهُمُ سے مراد جائیداد کا بھی حصہ اسپر میر ادل مضبوط ہو گیا اور مجھے معاملہ کی خوب سمجھ آگئی۔چنانچہ ریزولیوشن ۱۹۰۶۔۱۔۲۹ کی روشنی میں خاکسار نے وصایا لکھنے کیلئے تین مسودے بنائے (۱) جن لوگوں کا گزارا صرف جائیداد پر ہے۔(۲) وہ لوگ جن کا گزارا صرف آمد پر ہے۔(۳) وہ لوگ جن کی موجودہ حالت میں جائیداد بھی ہے اور آمد بھی ہے۔یہ مسودے حضرت حافظ چوہدری نصر اللہ خاں صاحب نے دیکھے اور تصدیق کی کہ یہ درست ہیں ، ان کو چھپواؤ۔چنانچہ اب تک انہی مسودہ جات کے مطابق وصیتیں لکھوائی جارہی ہیں۔وہ پرانے موصی جنہوں نے صرف جائیداد کی وصیتیں کی ہوئی تھیں لیکن ان کی ماہوار آمد تھی ، ان سے بطور ضمیمہ وصیت ماہوار آمد کا اقرار لیا گیا۔اور یہ بھی لکھوایا گیا کہ بوقت وفات متروکہ کے بھی دسویں حصہ کی مالک انجمن ہوگی۔اس طریق سے مقبرہ بہشتی کی آمدنی بڑھنی شروع ہوگئی۔اور اب تو ماشاء اللہ لاکھوں تک آمد جا پہنچی ہے۔یہ سب کچھ حضرت خلیفہ اسیح " ایدہ اللہ کی ہدایت کے تابع محترم چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم کی غیر معمولی توجہ اور کوشش کا نتیجہ ہے اور میں اس وقت پرانی باتیں زبانی یادداشت کے طور پر لکھ رہا ہوں۔الغرض مرحوم سلسلہ کے اموال کی زیادتی کا بہت خیال رکھتے تھے اور اپنے ماتحتوں سے کمال درجہ کی شفقت اور ان کی ذاتی ضروریات کا بھی خیال رکھتے تھے۔اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کی اہلیہ محترمہ حسین بی بی صاحبہ کا بھی جن کو ہم و,