اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 103 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 103

103 ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے لئے شملہ میں ٹھہر نا نہایت مضر ہے۔یہاں بلندی کی وجہ سے دل پر بہت بوجھ ہے انہیں آج ہی میں اپنے ساتھ دہلی لے جاؤں گا۔اور اپنے مکان پر ہی رکھوں گا۔کیونکہ تین چار روز تک متواتر علاج کی ضرورت ہے اور میرا ہر وقت قریب رہنا ضروری ہے تاکہ دل کی حالت اور خون کے دباؤ کے مطابق علاج میں تبدیلی ہوتی رہے۔ساتھ ہی والدہ صاحبہ کو تسلی دی کہ تین چار روز کے علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام تکلیف دور ہو جائے گی۔چنانچہ اسی دن دہلی کے سفر کی تیاری کر لی گئی۔یہ اتوار کا دن تھا، اور خاکسار کی حاضری دوسرے دن شملہ میں لازم تھی۔اس لئے یہ انتظام کیا گیا کہ میں ان سب کو کا لکا تک جا کر پہنچا آؤں اور ریل میں سوار کرا دوں۔اور پھر آئندہ ہفتہ کے دن خود بھی دہلی والدہ صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں چنانچہ ہم سب شام کے وقت کا لکا پہنچ گئے۔اور ان سب کو آرام سے ریل میں سوار کرادیا گیا۔گاڑی چلنے کا وقت تو رات کے ۱۲ بجے تھا۔لیکن ساڑھے دس کے قریب میں نے والدہ صاحبہ سے رخصت چاہی کہ اب جا کر میں ریل کے بنگلے میں سو جاؤں۔کیونکہ صبح سویرے پھر شملہ کا سفر کرنا ہے۔والدہ صاحبہ لیٹی ہوئی تھیں۔جب میں نے کمرہ کے اندر جاکر اجازت طلب کی تو اٹھ کھڑی ہوئیں اور میری پیشانی کو بوسہ دے کر دعا دی۔ڈاکٹر صاحب نے انہیں کھڑے ہوئے دیکھا تو شور مچادیا۔بے بے جی ، بے بے جی آپ کیا کر رہی ہیں فوراًلیٹ جائیں۔آپ کو تو لیٹے لیے بھی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔والدہ صاحبہ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔بیٹا لیٹے رہنے کے لئے تو بہت وقت ہے ظفر اللہ خاں کو اب پھر ملنا شاید ہو یا نہ ہو۔ور مئی کی صبح کو میں ساڑھے آٹھ بجے واپس شملہ پہنچ گیا۔شام کو دہلی ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ والدہ صاحبہ کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔البتہ دو پہر کے وقت امتلاء کی شکایت ہو گئی تھی۔جس سے دل پر کچھ بوجھ بڑھ گیا تھا۔لیکن یہ حالت ایک دو گھنٹوں کے بعد رفع ہو گئی۔۔ارمئی منگل کے دن دو بار دہلی ٹیلیفون کیا۔وہی جواب ملا جو پہلے دن ملا تھا۔ارمئی بدھ کے دن صبح کو بھی وہی جواب ملا۔سہ پہر کو دہلی سے ٹیلیفون ہوا کہ دو پہر کے بعد دل کی حالت بگڑ گئی تھی۔مگر ٹیکے وغیرہ کرنے سے پھر سنبھل گئی۔اب نسبتا آرام ہے۔ہوش میں ہیں اور باتیں کر رہی ہیں۔لیکن حالت ایسی ہے کہ تمہیں فوراً دہلی پہنچ جانا چاہیئے۔مجھے دوسرے دن شملہ میں ایک ایسا