اصحاب احمد (جلد 11) — Page 102
102 میں نے عرض کی کہ ڈاکٹر صاحب نے تو پلنگ سے ملنے کی اجازت نہیں دی آپ اس حالت میں ہیں۔فرمایا نماز پڑھنے میں کوئی تکلیف نہیں۔پھر میں نے کہا چلئے میں آپ کو پلنگ تک پہنچا آؤں۔اور میں سہارا دے کر پلنگ تک لے گیا۔انہوں نے اظہار شفقت کے طور پر سہارا لے لیا۔لیکن اس وقت تک بھی انہیں سہارے کی ضررت یہ تھی۔مغرب کے بعد میں دفتر کے کمرہ میں بیٹھا ہوا کام کر رہا تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ والدہ صاحبہ پر ایک قسم کی بیہوشی کی حالت طاری ہو گئی ہے۔میں فوراً ان کے کمرہ میں گیا۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ضعف کی وجہ سے کچھ نیم بیہوش سی ہو رہی ہیں۔لیکن آہستہ آہستہ پاؤں دبانے سے پورا ہوش آگیا۔اور باتیں وغیرہ کرنی شروع کر دیں۔مجھ سے فرمایا کہ مغرب سے پیشتر جب تم مجھے یہاں چھوڑ گئے تھے، مجھے غنودگی سی ہوگئی۔اور میں نے محسوس کیا کہ میں کسی اندھیری جگہ ہوں۔اور وہاں سے نکلنے کا رستہ تلاش کر رہی ہوں لیکن رستہ نہیں ملتا۔اسی دوران میں میں ایک خیمہ کے اندر چلی گئی ہوں کہ شاید یہاں سے رستہ باہر نکلنے کامل جائے لیکن اس خیمہ میں بھی بہت اندھیرا ہے اور نیچے کیچڑ ہے۔جس میں میں پھنس گئی ہوں۔اور نکلنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن نکل نہیں سکتی۔اس وقت میں نے کہا اگر کسی طور سے ظفر اللہ خاں کو اطلاع ہو جائے تو وہ مجھے یہاں سے نکلوانے کا انتظام کر لے گا۔ے رمئی ہفتہ کے دن ان کی حالت پہلی شام کی حالت سے تو بہتر تھی لیکن کمزوری بہت محسوس کرتی تھیں۔دورانِ گفتگو میں انہوں نے کہا ، اگر ڈاکٹر لطیف یہاں ہوتے تو مجھے جلد صحت ہو جاتی۔میں نے فوراً ڈاکٹر لطیف صاحب کو دہلی تار دیدیا کہ والدہ صاحبہ آپ کو یا دفرماتی ہیں۔وہ دوسرے دن صبح شملہ پہنچ گئے۔والدہ صاحبہ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔پلنگ پر اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ڈاکٹر صاحب کو پیار کیا اور مسکرا کر کہا۔اب کے اچھی ہو جاؤں تو سمجھوں بڑے ڈاکٹر ہو۔ڈاکٹر صاحب نے کہا۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔دیکھئے میں آپ کا تار ملتے ہی آگیا ہوں۔والدہ صاحبہ نے کہا۔میں نے تو تار نہیں بھجوایا اور میری طرف دیکھا۔میں نے عرض کی کہ کل آپ نے ڈاکٹر صاحب کو یاد کیا تھا۔اس لئے میں نے تار دے دیا تھا۔دہلی کو روانگی: