اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 101 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 101

101 شام کی گاڑی سے ہم قادیان سے روانہ ہو گئے۔بٹالہ میں چوہدری نصیر احمد صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ان کی بیگم صاحبہ کو ایک دن پیشتر ہی سخت درد کا دورہ ہوا تھا۔اور وہ بہت کمزور ہو رہی تھیں۔والدہ صاحبہ نے اصرار کیا کہ وہ پلنگ پر سوئیں۔اور خود انہوں نے صوفہ پر رات گزاری۔صبح انہوں نے اپنا ایک رؤیا سنایا۔کہ تمہارے والد صاحب آئے ہیں اور کہتے ہیں۔آپ تو بہت بیمار ہیں۔اچھا میں جا کر ڈاکٹر کو لاتا ہوں۔ایسا ڈاکٹر جس کی فیس ہر بار کی بتیں (۳۲) روپیہ ہوگی۔تشویش ناک صورت : شملہ پہنچ کر ڈاکٹر صاحب کو بلایا۔انہوں نے کہا۔تکلیف تو خون کے دباؤ کی ہے۔لیکن صحیح علاج اس وقت تک تجویز نہیں ہوسکتا۔جب تک بیماری کے پہلے مراحل کی تفصیل معلوم نہ ہو۔خون وغیرہ کا معائنہ کرنے سے معلوم ہوا کہ گردے بھی ٹھیک کام نہیں کر رہے۔بہر حال جو علاج تجویز ہوا۔وہ شروع کر دیا گیا۔لیکن کمزوری آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔۔شملہ پہنچ کر پہلی رات ہی والدہ صاحبہ نے رویا میں دیکھا کہ والد صاحب تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں۔میں آپ کے لئے پالکی لے آیا ہوں۔اب آپ جس وقت تیار ہو جائیں ہم روانہ ہو جائیں۔والدہ صاحبہ نے کہا۔میں تو تہجد کے وقت تیار ہو جاؤں گی۔اور اس وقت چلنا بھی مناسب ہوگا۔تا کہ زیادہ گرمی ہونے سے پہلے پہلے سفر طے کر لیا جائے۔والد صاحب نے فرمایا بہتر ہوگا کہ ۸ بجے کے بعد روانہ ہوں جب بچے ناشتہ سے فارغ ہو جائیں، ورنہ بچوں کو تکلیف ہوگی۔والدہ صاحبہ نے دوسرے دن خواب بیان کرتے ہوئے پالکی کی زیبائش کی تفاصیل بھی بیان کہیں کہ ایسی خوبصورت تھی اور اس قسم کی لکڑی تھی اور فلاں حصے چاندی کے تھے۔پانچ دن تو اسی صورت میں گزر گئے کہ گو کمزوری تھی۔لیکن کسی قسم کی تشویش نہیں تھی۔تہجد کے لئے اور باقی نمازوں کے لئے خود ہی اٹھ کر غسل خانہ میں وضو کے لئے تشریف لے جاتی تھیں اور جائے نماز پر نمازیں پڑھتی تھیں۔اکثر وقت پلنگ پر بیٹھے ہوئے گزارتی تھیں۔چوتھے روز گوڈاکٹر صاحب نے پلنگ سے اتر نا منع کر دیا تھا۔لیکن پھر بھی 4 مئی جمعہ کے دن عصر کے وقت جب میں ان کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ برآمدہ میں جائے نماز پر نماز پڑھ رہی ہیں۔جب نماز ختم کر چکیں تو