اصحاب احمد (جلد 11) — Page 100
100 تھی۔میں نے اس کے پاؤں کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک لمبی میخ اس کے پاؤں میں گڑی ہوئی ہے۔وہ خود درد سے بے حال ہو رہی تھی۔میں اکیلی تھی میرے قریب بھی کوئی ایسا آدمی موجود نہیں تھا جسے میں مدد کے لئے بلا سکتی یا مدد کے لئے بھیج سکتی۔آخر میں نے خیال کیا کہ میں خود ہی ہمت کر کے اس میخ کو اس کے پاؤں سے کھینچ کر نکال دوں۔لیکن جب میں نے اس کے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ بہت گھبرائی اور منت کرنے لگی کہ آپ اسے نہ چھیڑریں۔مجھ سے درد برداشت نہ ہو سکے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت عطا فرمائی اور میں نے ایک ہاتھ سے اس کے پاؤں کو مضبوط پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے میخ کے سر کو پکڑ کر زور سے اسے کھینچ لیا۔یہ میخ کوئی اڑھائی تین انچ لمبی تھی اور تھی زنگ آلود۔اس عورت کے پاؤں سے فوارہ کی طرح خون جاری ہو گیا۔پہلے تو درد سے وہ اور بے حال ہوئی لیکن پھر ا سے کچھ آرام محسوس ہونے لگا۔میں نے اس سے کہا۔ہمارا مکان یہاں سے قریب ہی ہے تم ہمت کر کے میرے ساتھ چلو۔میں تیل ابال کر اور اس میں روئی بھگو کر تمہارے پاؤں پر باندھوں گی۔تاکہ زخم میں کسی قسم کا زہر پیدا نہ ہو جائے اور تمام رات خود تمہاری خدمت کروں گی۔لیکن اس عورت نے کہا۔میرا گاؤں قریب ہی ہے میں ان لڑکیوں کی مدد سے اپنے گھر پہنچ جاؤں گی۔جب والدہ صاحبہ نے مجھے یہ واقعہ سنایا تو میں نے عرض کی کہ آپ مکان پر پہنچ کر کسی خادم کو حکم دیتے وہ جا کر اس عورت کو لے آتا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔وہ اپنے گھر جانے پر مصر تھی۔انہی ایام میں والدہ صاحبہ نے بتایا کہ کئی بار میں نے غنودگی کی حالت میں سنا کہ کوئی شخص کہتا ہے کچھ ہونے والا ہے۔اور ایک دوسرا شخص جواب میں کہتا ہے اب کی بار تو ہو کر رہے گا۔۲۷ یا ۲۸ رکوفرمایا۔میں نے دیکھا ہے کہ سات جنازے مقبرہ بہشتی میں ساتھ ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔۳۰ را پریل کو جس دن قادیان سے ہماری روانگی تھی۔والدہ صاحبہ نے زیادہ تکلیف کا اظہار کیا۔میں نے عرض کی کہ میں ڈاکٹر صاحب کو بلوانے کی کوشش کرتا ہوں۔چنانچہ میں نے ٹیلیفون پر پیغام پہنچانے کی کوشش کی لیکن یا ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیغام نہ پہنچ سکا۔یا وہ کسی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔سہ پہر کو میں مکان پر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نہیں آئے میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں عرض کی کہ اب شملہ پہنچ کر ڈاکٹر بلا لیں گے۔انہوں نے مسکرا کر فرمایا۔اچھا۔