اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 98 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 98

98 قادیان ملاقات ہوگی۔و, یکم اپریل کو گاڑی پونے دو گھنٹے دیر سے دہلی پہنچی۔اسٹیشن پر پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ والدہ صاحبہ موٹر میں بیٹھی انتظار کر رہی ہیں۔چنانچہ جب میں موٹر میں پہنچا، تو دعا دی اور پیار کیا ، اور کہا تم نے یہ کیسے خیال کر لیا کہ میں بارہ دن اور انتظار کر سکوں گی ؟ آخری علالت : بھی ہم دہلی ہی میں تھے کہ والدہ صاحبہ کو خون کے دباؤ کی تکلیف ہو گئی۔پہلے بھی کبھی کبھی انہیں یہ تکلیف ہو جایا کرتی تھی۔چنانچہ علاج کرنے پر دباؤ کی اصلاح ہوگئی اور تکلیف رفع ہو گئی۔انہی ایام میں انہوں نے ایک رؤیا دیکھا۔جس پر وہ اپنی طبیعت میں بہت خوشی محسوس کرتی تھیں۔اور گو اس کی تعبیر کو خوب سمجھتی تھیں۔لیکن بار بار اور خوشی خوشی اسے بیان کرتی تھیں۔فرمایا میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک پلنگ پر تشریف فرما ہیں اور بہت خوش نظر آتے ہیں۔مجھے آپ کو دیکھ کر دل میں بہت خوشی محسوس ہوئی۔اور میں نے عرض کی یا حضرت اگر حضور اجازت دیں تو میں حضور کے پاؤں دباؤں۔آپ نے مسکرا کر کمال شفقت سے اپنے پاؤں پلنگ کے ایک طرف کر لئے۔تا میرے بیٹھنے کے لئے جگہ ہو جائے۔میں پلنگ پر بیٹھ گئی اور حضور کے پاؤں دبانے لگی۔اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ حضور اس وقت بہت خوش نظر آتے ہیں۔میں کسی بات کے لئے دعا کے لئے عرض کر دوں۔ابھی میں سوچ رہی تھی کہ کس بات کے لئے دعا کے لئے عرض کروں کہ حضور نے اپنی دائیں طرف کسی شخص سے مخاطب ہو کر اور میری طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ان کا مکان کشادہ بنانا۔پھر میں بیدار ہوگئی۔جب سے میں نے یہ خواب دیکھا ہے۔میرے دل میں بہت ہی خوشی ہے۔جب ہم قادیان پہنچے۔تو والدہ صاحبہ نے اپنا یہ رویا حضرت خلیفہ اسیح (ایدہ اللہ بنصرہ) کی خدمت میں بیان کیا اور ساتھ ہی عرض کی حضور میں تو اس وقت آپ کی شکایت کرنے کو تھی کہ اب میرا مکان کشادہ ہو گیا ہوگا ، ایک طرف تو عبدالستار صاحب افغان دفن ہیں اور دوسری طرف کوئی اور۔حضور نے مسکرا کر فرمایا یہ تو جنت کے مکان کی طرف اشارہ ہے۔جب والدہ صاحبہ نے خاکسار سے اس گفتگو کا ذکر کیا تو فرمایا یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ یہ جنت کے مکان کی طرف اشارہ ہے۔میں وو