اصحاب احمد (جلد 11) — Page 96
96 اہلیہ محترمہ چوہدری صاحب کی رہائش: حضرت چوہدری صاحب کے قادیان ہجرت کر کے مستقل رہائش اختیار کرنے پر آپ کی اہلیہ محترمہ کی رہائش زیادہ تر ڈسکہ میں رہنے لگی کبھی کبھی قادیان بھی تشریف لایا کرتی تھیں۔لیکن بیک وقت قادیان میں ان کا قیام مہینہ دو مہینہ سے زائد نہیں ہوتا تھا۔بعض اوقات آپ محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے پاس لاہور میں قیام فرماتیں۔لیکن یہ قیام بھی ایک وقت میں چند دن یا چند ہفتے ہی ہوا کرتا تھا۔( میری والدہ ) محترم چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں : وو والد صاحب کا منشاء تھا کہ ان کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ اپنی مستقل رہائش خاکسار کے پاس ہی رکھیں۔اور انہوں نے اپنی آخری بیماری میں ایک رنگ میں اپنی اس خواہش کا اظہار والدہ صاحبہ سے بھی کر دیا تھا۔خاکسار کو بھی گوارا نہ تھا کہ والدہ صاحبہ اب خاکسار سے الگ رہیں۔چنانچہ مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ والدہ صاحبہ نے اپنی بقیہ حیات کا اکثر حصہ خاکسار کے پاس ہی گزارا۔اور ہمارے گھر کو اپنے مبارک وجود سے منور رکھا اور ہم جو ان کے اردگر درہتے تھے۔ہر لحظہ ان کی دعاؤں سے فیضیاب ہوتے رہے۔یہ بارہ سال کا عرصہ کس قدر مبارک تھا۔لیکن کس قدر مختصر اور ز و در فتار ! اس عرصہ کے شروع میں میرا یہ معمول تھا کہ میں ہر روز عشاء کی نماز کے بعد والدہ صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتا تھا۔اور چند منٹ ہم اپنے راز و نیاز کی باتوں میں گزار لیا کرتے تھے۔یہ معمول تو آخر تک رہا۔لیکن پہلے ایک دو سال کے بعد بعض دفعہ اس میں ناغہ بھی ہو جایا کرتا تھا۔ان کا دل نہایت نازک احساس تھا۔اس لئے وہ ذراذراسی بات سے نتیجہ اخذ کر لیا کرتی تھیں۔مجھ سے کئی قصور اور کوتاہیاں ہوئیں اور بعض دفعہ گستاخی کا ارتکاب بھی ہوا۔لیکن ان کے عفو کی چادر بہت وسیع تھی۔اور وہ میرے قصور بہت جلد معاف کر دیا کرتی تھیں۔لیکن ذراسی خدمت یا محبت کے اظہار پر ان کی دعاؤں کا ایک لمبا سلسلہ جاری ہو جایا کرتا تھا۔اور یہ سلوک کچھ خاکسا رہی کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔ہر وہ شخص جن کا ان کے ساتھ دور کا بھی تعلق ہوا۔وہ اس بات کا شاہد ہے کہ وہ عفو اور بخشش اور اجر دینے اور خیرات کرنے میں بہت جلدی کیا کرتی تھیں اور بہت فیاضی سے کام لیا کرتی تھیں۔