اصحاب احمد (جلد 11) — Page 88
88 حضرت خلیفہ اسیح ثانی ( ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) پڑھائیں۔حضور کو روزانہ ڈلہوزی چودھری صاحب کے متعلق اطلاع پہنچائی جاتی تھی۔اور جب حالت زیادہ تشویش ناک ہوگئی تو دن میں دو بار بذریعہ تا رحضور دریافت حالات فرماتے رہے۔آخر جب حضور کو وفات کی خبر پہنچی تو حضور ۳ رستمبر بروز جمعہ دو بجے ڈلہوزی سے روانہ ہوئے اور رات کو بارہ بجے کے قریب دارالامان تشریف لے آئے۔۴ ستمبر صبح ساڑھے نو کے قریب بہت سے آدمیوں کی معیت میں حضور نے باغ مسیح موعود میں آپ کا جنازہ پڑھایا اور بھی دعائیں کیں۔آپ کا جنازہ جماعت لاہور نے بھی لاہور میں پڑھا تھا۔بعد فراغت نماز جنازہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے ایک طرف سے خود چار پائی اٹھائی اور کنار لحد تک لے گئے۔اور اپنے ہاتھوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پاکباز صحابی کو مقبرہ بہشتی میں سپردخاک کیا۔جناب چودھری صاحب مرحوم نہایت ہی حلیم الطبع، وسیع القلب ، سیر چشم اور صاف گو انسان تھے۔آپ کی صاف گوئی کا نظارہ ایک دفعہ مجھے بھی دیکھنے کا موقعہ ملا۔حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ لا ہور تشریف رکھتے تھے۔مجلس عام میں حضور رونق افروز تھے کہ ایک کالج کے پروفیسر صاحب حضور سے مختلف مسائل پر گفتگو کرنے لگے۔پروفیسر صاحب نے ایک تو سلسلہ کلام کو اس قدر طول دے دیا کہ کسی اور کو بات کرنے کا موقعہ ہی نہ دیتے۔دوسرے ان کی گفتگو اس قسم کا رنگ اختیار کرگئی جو بے نتیجہ باتوں کا ہوتا ہے۔اس سے قریباً تمام مجلس کبیدہ خاطر ہورہی تھی کہ جناب چودھری صاحب مرحوم نے پروفیسر صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا۔آپ اگر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو کسی علمی بات کے متعلق کریں۔بے فائدہ کیوں وقت ضائع کر رہے ہیں،اس کے بعد پروفیسر صاحب نے جلد ہی سلسلہ کلام ختم کر دیا۔جناب چودھری صاحب مرحوم سے جن اصحاب کو خاص تعلقات رہے ہیں، وہ آپ کی خوبیوں اور واقعات زندگی سے بہت زیادہ واقف ہوں گے اور ہماری درخواست ہے کہ وہ ان کو لکھ کر ہمارے پاس بھیج دیں۔تا کہ ہم انہیں شائع کر سکیں۔اس صدمہ جانکاہ کے متعلق ہم تمام جماعت کی طرف سے جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب اور ان کے سارے خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ چودھری صاحب مرحوم کے قابل فرزندوں کو اپنے محترم باپ کے نقشِ قدم پر چلنے اور بیش از بیش خدماتِ