اصحاب احمد (جلد 11) — Page 73
73 تو بچ جائے گی۔گویا یہ ایسا موقعہ ہے جبکہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی خاطر حضرت مسیح موعود کو قربان کرنے کو تیار ہیں۔شوری پر اس فتنہ کے استیصال کے لئے یہ طے ہوا کہ چونکہ اغیارا اپنے لوگوں کو کثیر تعداد میں اس علاقہ میں لے جا کر ملکانوں کو مرعوب کرتے ہیں۔اس لئے ہمارے احباب بھی وہاں کثرت سے جائیں۔دوست اپنے خرچ پر تین تین ماہ کا عرصہ وقف کر کے وہاں کام کریں۔اور قادیان کے مدرسین وطلباء دو دو ماہ کی موسمی تعطیلات میں جائیں تاکہ ان کے کام کا حرج نہ ہو۔کسی شخص سے ان ایام کے بدلہ میں روپیہ قبول نہ ہوگا۔البتہ جو لوگ معذور ہوں ، وہ تین ماہ کے لئے خرچ دے سکتے ہیں۔یہ بھی فیصلہ ہوا کہ کم از کم ایک سو روپیہ کی شرح سے نصف لاکھ روپیہ انسداد ارتداد کے لئے فراہم کیا جائے۔چنانچہ اس رقم کے پانچویں حصہ ( دس ہزار ) کی پیشکش اسی شوری میں ہوگئی۔حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب اور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بھی علی الترتیب تین صد اور اڑھائی صد روپیہ پیش کیا۔اور حضرت چوہدری صاحب کو میدانِ جہاد میں پہنچ کر بھی خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔اس شوریٰ میں چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی پیش کردہ دو تجاویز منظور ہوئیں۔ایک یہ کہ جو غیر احمدی ہمارے ساتھ اس مدافعت میں شریک ہونا چاہیں ، انہیں شامل کرنے کی تحریک کو جاری رکھا جائے۔دوسرے یہ کہ جن اقوام کو اسلام پر قائم رکھنے کے لئے یہ تبلیغی جہاد جاری کیا جا رہا ہے۔ان میں سے اہلیت رکھنے والے بعض افراد کو اس کام میں شامل کیا جائے۔اور بعض کو قادیان میں تعلیم دلا کر اس کام کے قابل بنایا جائے۔شدھی کی تحریک سے ہندوستان میں جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات رونما ہونے لگے۔ملکانہ کے مسلمانوں کو جو لقمہ ترسی کو جو لقمہ تر سمجھ لیا گیا تھا۔اب جماعت احمدیہ کے مجاہدین کی آمد سے حلق میں کانٹا بن کر نظر آنے لگا۔کیونکہ ارتداد پر آمادہ لوگوں پر واضح کر دیا گیا کہ ان کو مجلسی مساوات حاصل نہ رپورٹ مشاورت ۱۹۲۳ ء۔(صفحہ ۵۵، ۳۷) اس وقت چندہ لکھوانے والوں میں سے صرف ایک نے ایک ہزار ، پانچ نے نصف نصف ہزار اور ایک نے چارسو تیرہ روپے لکھوائے۔باقی باون افراد سے حضرت چوہدری صاحب کا چندہ زیادہ تھا۔ایک سواٹھا ئیں نمائندگان سے انسٹھ نے اس وقت فوری طور پر چندہ لکھوایا تھا۔