اصحاب احمد (جلد 11) — Page 72
72 ہم ملکانہ والوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑ سکتے۔خواہ اس فتنہ کے ازالہ کے لئے غیر از جماعت مسلمان ہمارے ساتھ مل کر کام کر سکیں یا نہ کر سکیں۔کیونکہ جو شخص اسلام ترک کرے گا ، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنے والوں میں شامل ہو جائے گا سو ہمارے نزدیک یہ امر قابل ترجیح ہے کہ کوئی شخص بجائے غیر مسلم ہونے کے غیر احمدی مسلمان بن جائے خواہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دے۔کیونکہ اس طرح کم از کم حضرت رسول کریم صلعم کی ذات شید میں انتظام کی خاطر ایک نگران مقرر کیا کرتا ہوں ( تا وہ بولنے والوں کے نام لکھیں وغیرہ۔خلاصہ ) چونکہ ان رپورٹوں پر دوستوں کو اظہار رائے کا موقعہ دیا جائے گا جن امور کے متعلق رپورٹ (؟ ووٹ ) لینے کی ضرورت ہوگی ان پر ووٹ لئے جائیں گے اس لئے اس انتظام کے لئے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو مقرر کرتا ہوں“۔د میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو صدر مقرر کرتا ہوں کہ وہ ایک ایک کو باری باری بولنے کام موقع دیں“۔(۱۹۴۱ء صفحہ ۲۱) میں نگرانی اور باری باری بولنے کا موقعہ دینے کے لئے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو مقرر کرتا ہوں“۔(۱۹۴۴ء۔صفحہ ۳۴) سوائے ایک شوری کے جس میں آپ کے والد ماجد صدر مقرر ہوئے تھے۔ہمیشہ ہی جب آپ شوری میں شامل ہوئے ، صدر برائے اجلاس مقرر ہونے کا آپ شرف پاتے رہے ہیں اور سوائے دو بار کے جس سب کمیٹی میں بھی شامل کئے گئے اس کے صدر مقرر ہوتے رہے۔گو یا خلیفہ وقت کی نظر میں آپ کی خاص وقعت ہے۔وَ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ چوہدری صاحب کی عدم شمولیت کے موقع پر دیگر احباب صدر مقرر ہوتے رہے۔مثلاً ۱۹۲۹ء، ۱۹۳۵ء اور ۱۹۴۲ء میں حضرت پیرا کبر علی صاحب (صفحہ ۱۱،۱۴،۲۱) اور ۱۹۳۱ء میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب (صفحه ۲۵) سید نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کی رُو سے جن کے اقتباس او پر درج کر چکا ہوں چیئر مین انتظام ( کرنے والا ) صدر اور نگران“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔