اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 42 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 42

42 کھٹکھٹایا جو کوٹھڑی سے مسجد مبارک میں کھلتی تھی۔میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود تشریف لائے ہیں۔آپ کے ہاتھ میں ایک طشتری ہے۔جس میں ایک ران بھنے ہوئے گوشت کی ہے۔وہ حضور نے مجھے دے دی اور حضور خود واپس اندر تشریف لے گئے اور ہم سب نے بہت خوشی سے اسے کھایا۔اور شفقت اور محبت کا اثر اب تک میرے دل میں ہے اور جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو میرا دل خوشی اور فخر کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے۔انہی ایام میں ایک دن کا ذکر ہے کہ میں مسجد مبارک کے نیچے کی گلی میں سے گذر رہا تھا۔دو پہر کا وقت تھا۔غالبا دو پہر کے کھانے کے بعد اور ظہر کی نماز سے قبل۔میں نے دیکھا کہ حضور اپنی ڈیوڑھی سے باہر تشریف لائے ہیں۔حضور اس وقت بالکل اکیلے تھے۔لباس وہی تھا۔جو حضور عام طور پر پہنا کرتے تھے۔سوائے اس کے کہ سر پر صرف رومی ٹو پی تھی اور عمامہ نہیں تھا۔اور گلے میں کوٹ بھی نہیں تھا لیکن ہاتھ میں چھڑی تھی۔اور گرتے کا ایک حصہ لباس کے کسی دوسرے حصہ کے ساتھ اٹک کر ذرا اونچا رہ گیا تھا۔اور وہاں سے تھوڑا سا حصہ بدن مبارک کا نظر آرہا تھا۔آپ اس گلی میں تشریف لے گئے جو مسجد اقصیٰ کو جاتی ہے۔صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے مغرب کی طرف جو مکان ہے۔اس کا کچھ حصہ ان دنوں زیر تعمیر تھا۔حضور اس کا ملا حظہ فرماتے رہے۔میں بھی کچھ فاصلہ پر پیچھے پیچھے چلتا گیا۔دل میں یہ خوف بھی تھا کہ اگر حضور دیکھ لیں تو شاید پسند نہ فرمائیں کہ کیوں یہ پیچھے آرہا ہے۔لیکن دل یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ حضور کو دیکھنے کا ایک موقعہ ہاتھ سے جانے دیا جائے۔چند منٹ حضور نے مکان کا ملاحظہ فرمایا۔اس وقت معمار اور مزدور بھی غالباً کھانا کھانے گئے ہوئے تھے اور کوئی نگران تعمیر بھی موجود نہیں تھا۔حضور خود ہی چند منٹ تک ادھر اُدھر دیکھتے رہے۔اور پھر جس راستہ سے آئے تھے ، اسی راستہ سے واپس تشریف لے گئے۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الاول جلد ہی کھانا کھانے سے فارغ ہو کر مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لے آیا کرتے تھے اور عشاء کی نماز تک وہیں تشریف رکھا کرتے تھے۔یہ صحبت بھی بہت پر لطف ہوا کرتی تھی۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کی بیماری کے دوران میں بھی میں قادیان ہی میں حاضر تھا اور ان کی وفات کے وقت بھی یہیں موجود تھا۔چنانچہ ان کے جنازہ کو بہشتی مقبرہ میں لے جانے کے لئے ڈھاب کے ایک حصہ پر عارضی پل بنانا پڑا تھا۔اُس پل کے بنانے میں زیادہ تر تعلیم