اصحاب احمد (جلد 11) — Page 32
32 تھے۔بعد میں بتایا کہ ہر مذہب و ملت کے سیالکوٹ کے اعلیٰ اور ذی علم طبقہ کے قریباً تمام افراداس جلسہ میں شامل ہوئے اور اتنا بڑا اجتماع یہاں کبھی کسی کی تقریر کے لئے جمع نہیں ہوا۔حضور ۴ رنومبر کو مراجعت فرمائے قادیان ہوئے۔واپسی کے نظارہ کا نقشہ حضرت منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی ذیل کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں : ایک حافظ سلطان نامی نے بد معاشوں کے مشورہ سے اپنے شاگردوں کو جنہیں وہ قرآن مجید پڑھاتا تھا۔راکھ اور اینٹیں جھولیوں میں بھرنے کو کہا اور دوکانوں کی چھتوں پر کھڑا کر دیا۔اس نے یہ سمجھا کہ جس گاڑی کو ہم دونوں نے پکڑا ہوا ہے اور آگے جو ہے مستورات کی ہے۔اور ہمیں دھو کہ دینے کے لئے ایسا کیا ہوا ہے۔چنانچہ جب حضور کی گاڑی گزرگئی اور اس کے بعد خادمات والی بند گاڑی گزر رہی تھی۔اسپران شریروں نے راکھ اور اینٹیں وغیرہ پھینکیں۔حضور ریل گاڑی میں سوار ہوئے تو اس پر بھی خشت باری کی۔چنانچہ گاڑی کا ایک شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔گاڑی روانہ ہونے کے بعد ہم واپس جارہے تھے۔دیکھا کہ دو بازاری عورتیں پلیٹ فارم پر بیٹھی ہیں اور ایک کہہ رہی ہے۔ہائے مرزا مجھے بھی ساتھ لے چلو۔پھر کہنے لگی اگر ساتھ لے جائے تو جاتے ہی زہر دے دول۔۔۔( واپسی پر خشت باری ہوئی۔حتی کہ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی جو بوڑھے آدمی تھے ، ان پر بھی ہوئی۔مولوی صاحب بھاگے اور شیخ مولا بخش صاحب کی دوکان میں پناہ لی۔لیکن وہاں بھی خشت باری ہوتی رہی۔یہاں تک کہ پولیس پہنچی اور اس نے لوگوں کو منتشر کیا۔چند ایک دن کے بعد۔۔۔۔حافظ سلطان نمونیہ والی طاعون سے۔۔۔۔۔۔مر گیا۔اس کے نہلانے والا بھی مر گیا اور ان دونوں کے علاوہ طاعون ہی سے چند دن کے اندر اندر سلطان کے کنبے کے اٹھائیس یا تمہیں آدمی ہلاک ہو گئے۔“ 166 جناب چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں : وو دوسری صبح ہی والدہ صاحبہ نے والد صاحب سے اجازت طلب کی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوں۔والد صاحب نے اجازت دے دی۔لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ آپ دیکھ آئیں لیکن بیعت نہ کریں۔میں بھی تحقیقات میں لگا ہوا ہوں۔آخری فیصلہ اکٹھے سوچ کر کریں گے۔والدہ صاحبہ نے کہا کہ اگر تو یہ وہی بزرگ ہیں جنہیں میں نے خواب میں دیکھا ہے تو پھر میں تو بیعت میں تا خیر نہیں کر سکتی۔کیونکہ میں خواب میں اقرار کر چکی ہوں اور تاخیر سے میرا