اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 29 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 29

29 رؤیا دیکھا کہ رات کے وقت اپنے مکان کے صحن میں اس طور پر انتظام میں مصروف ہیں کہ گویا بہت سے مہمانوں کی آمد کی توقع ہے۔اسی دوران میں دالان کے اندر جانے کا اتفاق ہوا۔تو دیکھا کہ مغرب کی طرف کی کوٹھڑی میں بہت اُجالا ہو رہا ہے، حیران ہوئی کہ وہاں تو کوئی لیمپ وغیرہ نہیں یہ روشنی کیسی ہے۔چنانچہ آگے بڑھیں تو دیکھا کہ کمرہ روشنی سے دمک رہا ہے۔اور ایک پلنگ پر ایک نورانی صورت بزرگ تشریف فرما ہیں۔اور ایک نوٹ بک میں کچھ تحریر فرما رہے ہیں۔والدہ صاحبہ (ان کو دیکھتے ہی بے اختیار پکار اٹھیں کہ میں اللہ تعالیٰ پر قربان جاؤں ! یہ نور تو اس بزرگ کا ہے ) اور کمرہ میں داخل ہو کر اُن کی پیٹھ کی طرف کھڑی ہو گئیں۔جب انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص کمرہ کے اندر آیا ہے۔تو انہوں نے اپنا جوتا پہننے کے لئے پاؤں پلنگ سے نیچے اُتارے۔گویا کمرے سے چلے جانے کی تیاری کرنے لگے ہیں۔والدہ صاحبہ نے عرض کی یا حضرت مجھے تمام عمر میں کبھی اس قدر خوشی محسوس نہیں ہوئی جس قدر آج میں محسوس کر رہی ہوں آپ تھوڑی دیر تو اور تشریف رکھیں۔چنانچہ وہ بزرگ تھوڑی دیر اور ٹھہر گئے (اور دریافت کیا کہ جبکہ تین قمری مہینوں میں تین بار زیارت کر چکی ہو تو کیا یقین نہیں آیا۔کیا اب بھی یقین حاصل ہوا ہے یا نہیں ؟ تو والدہ صاحبہ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر عرض کی۔آمین۔الحمد للہ مجھے یقین ہو گیا ہے۔“ جب حضور تشریف لے جانے لگے۔تو والدہ صاحبہ نے ( جرات کر کے حضور کا دامن تھام کر ) دریافت کیا۔یا حضرت ! ( مجھے بتا کے جائیں ) اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہیں کون بزرگ ملے ہیں تو میں کیا بتاؤں؟ انہوں نے دائیں کندھے کے اوپر سے پیچھے کی طرف دیکھ کر اور دایاں بازو اٹھا کر جواب دیا۔اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ کون ملے ہیں، تو کہیں احمد ملے ہیں“ اس پر والدہ صاحبہ بیدار ہوگئیں۔” ہمارے ماموں صاحب بھی اس دن سیالکوٹ ہی میں تھے۔(اور ساتھ کے کمرے میں سوئے تھے ) والدہ صاحبہ نے اِس رؤیا کا ذکر ان سے اور والد صاحب سے کیا۔ماموں صاحب نے فرمایا۔یہ تو میرزا صاحب تھے۔والدہ صاحبہ نے کہا۔انہوں نے اپنا نام میرزا صاحب تو نہیں