اصحاب احمد (جلد 11) — Page 372
372 12866 چوہدری اسد اللہ خاں صاحب آج کل لاہور کی جماعت کے امیر ہیں۔کیا ہی خوش قسمت تھے یہ والدین جن کی اولاد ایسی خادم دین ہے۔اللہ تعالیٰ سب کا انجام اپنی رضا پر کرے۔آمین۔(۲) مکانیت کی کمی کے باعث تنگی سے جلسہ سالانہ پر گزارا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: ”ہمارے گھر میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اُترا کرتے ہیں۔وہ اچھے امیر آدمی ہیں دو تین ہزار روپیہ ماہوار آمدنی رکھتے ہیں۔مگر ان کے خاندان کے دس بارہ آدمی ایک ہی چھوٹی سی کوٹھڑی میں گزارا کر لیتے ہیں۔ان کے والد چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی ایک بات مجھے ہمیشہ پیاری معلوم ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اول کی زندگی کے آخری سال میں جلسہ میں مہمان نوازی کا افسر تھا۔چوہدری صاحب آسودہ حال آدمی تھے اور عمر بھی ان کی زیادہ تھی میں نے ان کے لئے علیحدہ مکان کی کوشش کی۔مگر انہوں نے کہا۔میں سب کے ساتھ ہی رہونگا۔مگر اس طرح وہ بیمار ہو گئے۔اگلے سال یعنی میرے ایام خلافت میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ان سے کہا کہ پچھلے سال آپ کو تکلیف ہو گئی تھی۔اب کے علیحدہ ٹھہر نے کا انتظام کیا جائے گا۔مگر انہوں نے جواب دیا۔آگے ہی پلاؤ کھانے والے اور اپنے لئے خاص آرام چاہنے والے الگ ہو گئے ہیں۔میں تو سب کے ساتھ ہی رہوں گا۔(۳) حضور نے فتنہ احرار کے مقابلہ کے لئے ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کا اعلان فرمایا۔جماعت احمدیہ سے قربانی کے مطالبات کی سکیم کے بعض اجزاء کی تشریح کرتے ہوئے جماعت کو مزید قربانیوں کی تلقین کرتے ہوئے حضور نے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا : 12466 میں نے پچھلے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ غرباء زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور ان کیلئے جو سہولتیں رکھی ہیں۔ان کو استعمال کر رہے ہیں اور غالبا یہ بھی کہا تھا کہ مالی طور پر ان کے روپیہ سے شاید زیادتی نہ ہو۔مگر اخلاص کے لحاظ سے ضرور ہوگی۔مگر اب معلوم ہوا ہے کہ غرباء شاید مال کو بھی بڑھا دینگے۔کیونکہ یہ ظاہر ہو