اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 22 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 22

22 22 فخر وامتیاز رہے گی۔حضور کا ورود عین مغرب کے بعد ہوا۔اسٹیشن پر خلقت کا اس قد رہجوم تھا کہ پلیٹ فارم پر اس ہجوم کو کسی انتظام کے ماتحت لا نا مشکل ہو جاتا۔اس لئے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ جس گاڑی میں حضور اور حضور کے اہلِ بیت اور رفقاء سفر کر رہے تھے ، اُسے کاٹ کر مال گودام کے پلیٹ فارم پر پہنچا دیا گیا۔مال گودام کا وسیع احاطہ کھچا کھچ خلقت سے بھرا ہوا تھا اور اس کے باہر سڑک پر بھی خلقت جمع تھی۔اسٹیشن پر اور ان بازاروں میں سے جہاں سے حضور کی سواری گزرنی تھی ، پولیس کا خاطر خواہ انتظام تھا۔سپرنٹنڈنٹ پولیس اور اکثر حکام ضلع اور آنریری مجسٹریٹ انتظام کی نگرانی کے لئے موجود تھے۔بازاروں میں اور مکانوں کی کھڑکیوں اور چھتوں پر کثرت سے لوگ موجود تھے۔اکثر تو ان میں سے زائر یا تماشہ بین تھے۔بعض مخالف بھی تھے۔مخالف علماء اور سجادہ نشینوں نے ہر چند لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تھی کہ حضور کے استقبال یا زیارت کے لئے نہ جائیں۔لیکن یہ مخالفت خود اس ہجوم کے بڑھانے میں ممد ہوگئی۔”خاکسار بھی والد صاحب کے ہمراہ اسٹیشن پر گیا۔لیکن ہجوم کی کثرت کی وجہ سے ہمیں حضور کی گاڑی کے قریب پہنچنے کا موقعہ نہ ملا۔دُور سے اپنی گاڑی میں بیٹھے ہوئے استقبال کا نظارہ دیکھتے رہے۔اور جب حضور کی سواری ایک جلوس کی صورت میں اسٹیشن سے روانہ ہوگئی تو ہم واپس آگئے۔لیکن میرے ماموں صاحب جلوس کے ساتھ ساتھ گئے اور حضور کے اپنے جائے قیام پر پہنچ جانے کے بعد گھر واپس آئے۔ان سے ہم نے تفصیل کے ساتھ وہ واقعات سُنے جو حضور کو اور حضور کے رفقاء کو اسٹیشن سے لے کر حضور کی قیامگاہ تک پیش آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مع اپنے اہلبیت اور افراد خاندان کے میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر فروکش ہوئے۔اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا قیام بابو عبد العزیز صاحب 6 مرحوم کے مکان پر قرار پایا۔والدہ ماجدہ چو ہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے حضور کی تشریف آوری کے اگلے روز ہی بیعت کر لی (جس کی تفصیل بعد میں درج ہو گی )۔محترم چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں کہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سیالکوٹ تشریف آوری کے وقت تک والد صاحب کی طبیعت بھی بہت حد تک احمدیت کی طرف راغب ہو چکی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اب آخری فیصلہ کا وقت آ پہنچا ہے۔اُن دنوں ان کی صحبت بہت حد تک چوہدری محمد امین صاحب کے ساتھ رہا