اصحاب احمد (جلد 11) — Page 20
20 مقدمہ کرم دین میں شہادت اور اسکی برکت سے قبول احمدیت : حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے چوہدری صاحب محترم کو نیک دل پایا اور آپ کی ضمیر کو روشن اور فطرت کو مستقیمہ اور آپ کی قرآن مجید سے محبت کا ذکر کیا۔حضرت اقدس جو کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ والی کیفیت اپنے قلب مطہر میں رکھتے تھے۔یہ ممکن نہیں کہ آپ نے ان حالات پر آگاہ ہو کر چوہدری صاحب کے قبول احمدیت کے لئے دُعا نہ فرمائی ہو۔خصوصاً جبکہ خاص طور پر حضرت مولوی صاحب کو خط لکھنے کی تحریک ہوئی تھی۔اور جسے خالی از مصالح آپ نہیں سمجھتے تھے اور حقیقہ ثابت بھی ایسا ہی ہوا۔اور بالآخر حضرت چوہدری صاحب نہ صرف سلسلہ عالیہ احمدیہ سے وابستہ ہوئے بلکہ ایک اعلیٰ رکن ثابت ہوئے کہ جن کی موت وحیات ایک قابلِ رشک تھی۔سچ ہے ہر بلاکیں قوم را حق داده اند زیراں گنج کرم بنهاده اند مقدمه کرم دین حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے گنج کرم ثابت ہوا۔اس کیوجہ سے یقینا گوں ناگوں فوائد ہوئے ہونگے۔حضور کا وقت عزیز بمطابق وعدہ البی که انتَ الشَّيخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُه یقیناً ضائع نہیں ہوا۔اس کے نیک ثمرات میں سے ایک شیر میں شمر حضرت چوہدری صاحب کا بالآخر احمدیت سے وابستہ ہو جانا تھا۔اس کی تفصیل محترم چو ہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور حضرت عرفانی صاحب کے الفاظ میں سنیئے۔جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ : ” ہمارے نانا صاحب اور ماموں صاحب احمدی ہوچکے تھے۔والد صاحب بھی الحکم منگوایا کرتے تھے اور سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے درس قرآن کریم میں شامل ہوا کرتے تھے۔“ مولوی مبارک علی صاحب کے احمدی ہو جانے کے چند سال بعد چھاؤنی سیالکوٹ کے بعض احمدی اشخاص نے جمعہ مسجد چھاؤنی سیالکوٹ کی امامت اور تولیت سے مولوی مبارک علی صاحب کو علیحدہ کرنے کے لئے مقدمہ دائر کر دیا تھا۔اور جماعت احمد یہ سیالکوٹ نے والد صاحب کو مولوی