اصحاب احمد (جلد 11) — Page 19
19 مجھ میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوتی تھی۔آخر بڑے حیص بیص کے بعد مجھ پر کھولا گیا کہ زندہ نمونہ یا اُس زندگی کے چشمہ پر پہنچنے کے سوا جو اندرونی آلائشوں کو دھو سکتا ہو۔یہ میل اُترنے والی نہیں۔ہادی کامل خاتم الانبیاء صلوات اللہ علیہ وسلامہ نے کس طرح صحابہ کو منازل سلوک ۲۳ برس میں طے کرائیں۔قرآن علم تھا اور آپ اس کا سچا عملی نمونہ تھے۔قرآن کے احکام کی عظمت و جبروت کو مجرد الفاظ اور علمی رنگ نے فوق العادۃ رنگ میں قلوب پر نہیں بٹھایا۔بلکہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے عملی نمونوں اور بے نظیر اخلاق اور دیگر تائیدات سماویہ کی رفاقت اور پیاپے ظہور نے ایسالا زوال سکہ آپ کے خدام کے دلوں پر جمایا۔خدا تعالیٰ کو چونکہ اسلام بہت پیارا ہے۔اور اس کا ابدالدھر تک قائم رکھنا منظور ہے۔اسلئے اس نے پسند نہیں کیا کہ یہ مذہب بھی دیگر مذاہب کی طرح قصوں اور افسانوں کے رنگ میں ہو کر تقویم پارینہ ہو جائے۔اس پاک مذہب میں ہر زمانہ میں زندہ نمونے موجود رہے ہیں۔جنہوں نے علمی اور عملی طور پر حامل قرآن عَلَيْهِ صَلَواتُ الرَّحْمَن کا زمانہ لوگوں کو یاد دلایا۔اسی سنت کے موافق ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ایده اللہ الودود کو ہم میں کھڑا کیا کہ زمانہ پر وہ ایک گواہ ہو جائے۔میں نے جو کچھ اس خط میں لکھنا چاہا تھا۔حضرت اقدس امام صادق علیہ السلام کے وجود پاک کی ضرورت پر چند وجدانی دلائل تھے۔اس اثنا میں بعض تحریکات کی وجہ سے حضرت اقدس نے ”ضرورت امام پر پرسوں ایک چھوٹا سا رسالہ لکھ ڈالا ہے جو عنقریب شائع ہوگا۔ناچارمیں نے اس ارادے کو چھوڑ دیا۔بالآخرمیں اپنی نیکی سے بھری ہوئی صحبتوں کو ، آپ کے با قاعدہ حسن ارادت کے ساتھ درس کتاب اللہ میں حاضر ہونے کو آپ کے اپنی نسبت کمال حسن ظن کو اور ان سب پر آپ کی نیک دل اور پاک تیاری کو آپ کو یاد دلاتا اور آپ کی ضمیر روشن اور فطرت مستقیمہ کی خدمت میں اپیل کرتا ہوں کہ آپ سوچیں وقت بہت نازک ہے۔جس زندہ ایمان کو قرآن چاہتا ہے اور جیسی گناہ سوز آگ قرآن سینوں میں پیدا کرنی چاہتا ہے وہ کہاں ہے۔میں خدائے رب عرش عظیم کی قسم کھا کر آپ کو یقین دلاتا ہوں۔وہی ایمان حضرت نائب الرسول مسیح موعود کے ہاتھ میں ہاتھ دینے اور اسکی پاک صحبت میں بیٹھنے سے حاصل ہوتا ہے۔اب اس کارخیر میں توقف کرنے سے مجھے خوف ہے کہ دل میں کوئی خوفناک تبدیلی پیدا نہ ہو جائے۔دنیا کا خوف چھوڑ دو۔اور خدا کے لئے سب کچھ کھو دو کہ یقینا سب کچھ مل جائے گا۔والسلام۔یکم اکتوبر ۱۸۹۸ء عاجز عبدالکریم از قادیان