اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 18 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 18

18 مطر اور اپنے شہر میں مشہور ہوں۔یا کیا میں مفلس، نادار پیٹ کی غرض سے نت نئے بہروپ بدلنے والا قلاش ہوں۔يَعْلَمُ اللهُ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ - که بِحَمدِ اللهِ ان سب معائب سے بری ہوں۔وَلَا أَزَكَّى نَفْسِى وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ تو پھر کس بات نے مجھ میں ایسی استقامت پیدا کر رکھی ہے جو اِن سب تعلقات پر غالب آگئی ہے۔بہت صاف بات اور ایک ہی لفظ میں ختم ہو جاتی ہے۔اور وہ یہ ہے۔امام زمان کی شناخت۔اللہ اللہ یہ کیا بات ہے۔جس میں ایسی زبر دست قدرت ہے۔جو سارے ہی سلسلوں کو توڑ تاڑ دیتی ہے۔آپ خوب جانتے ہیں میں بقدر استطاعت کے کتاب اللہ کے معارف و اسرار سے بہرہ مند ہوں۔اور اپنے گھر میں کتاب اللہ کے پڑھنے اور پڑھانے کے سوا مجھے اور کوئی شغل نہیں ہوتا۔پھر میں یہاں کیا سیکھتا ہوں ؟ کیا وہ گھر میں پڑھنا اور ایک معتد بہ جماعت میں مشار الیہ اور صح انتظار بنا میری روح یا میرے نفس کے بہلانے کو کافی نہیں؟ ہر گز نہیں۔واللہ ثم تاللہ ہر گز نہیں۔میں قرآن کریم پڑھتا ، لوگوں کو سُنا تا، جمعہ میں ممبر پر کھڑا ہو کر بڑی پُر اثر اخلاقی عظیں کرتا اور لوگوں کو عذاب الہی سے ڈراتا اور نواہی سے بچنے کی تاکید میں کرتا۔مگر میرانفس ہمیشہ مجھے اندراندر علامتیں کرتا کہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ 10 میں دوسروں کو ڑ لاتا۔پر خود نہ روتا اوروں کو نا کر دنی اور نا گفتنی امور سے ہٹا تا۔پر خود نہ ہٹتا۔چونکہ معتمد ریا کار اور خود غرض مکار نہ تھا۔اور حقیقتا حصول جاہ و دُنیا میرا قبلہ ہمت نہ تھا۔میرے دل میں جب ذرا تنہا ہوتا ہجوم کر کے یہ خیالات آتے مگر چونکہ اپنی اصلاح کے لئے کوئی راہ و روئے نظر نہ آتا۔اور ایمان ایسے جھوٹے خشک عملوں پر قانع ہونے کی اجازت بھی نہ دیتا۔آخر ان کشاکشوں سے ضعف دل کے سخت مرض میں گرفتار ہو گیا۔بارہا مصمم ارادہ کیا کہ پڑھنا پڑھانا اور وعظ کرنا قطعاً چھوڑ دوں۔پھر لپک لپک کر اخلاق کی کتابوں۔تصوف کی کتابوں اور تفاسیر کو پڑھتا۔احیاء العلوم اور عوارف المعارف اور فتوحاتِ مکیه بر چهار جلد اور کثیر کہتا میں اسی غرض سے پڑھیں اور بتوجہ پڑھیں۔اور قرآن کریم تو میری روح کی غذا تھی اور بحمد اللہ ہے۔بچپن سے اور بالکل بے شعوری کے سن سے اس پاک بزرگ کتاب سے مجھے اس قدر انس ہے کہ میں اس کا کم و کیف بیان نہیں کر سکتا۔غرض علم تو بڑھ گیا اور مجلس کے خوش کرنے اور وعظ کو سجانے کے لئے لطائف و ظرائف بھی بہت حاصل ہو گئے۔اور میں نے دیکھا کہ بہت سے بیمار میرے ہاتھوں سے چنگے بھی ہو گئے مگر