اصحاب احمد (جلد 11) — Page 13
13 ہو گئی تو کھانے پینے کو بھی محتاج ہو گئی۔اور کوئی شخص حتی الوسع اسکے نزدیک نہیں جاتا تھا۔حتی کہ اس کی آخری بیماری میں اُسے پانی پلانے والا بھی کوئی نہیں ملتا تھا اور وہ کچھ دن بہت تکلیف اور کرب کی حالت میں پڑی رہی۔آخر تنگ آکر اُس نے اپنی چارپائی کو آگ لگا دی اور آگ میں جل کر مر گئی۔والد چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی وفات اور ان کی اہلیہ پر خاص برکات : چوہدری نصر اللہ خاں صاحب اپنے والد ماجد کی بیماری میں ہر روز شام کو ڈسکہ چلے جایا کرتے تھے۔اور صبح کچہری کے کام کے لئے واپس سیالکوٹ آجایا کرتے تھے۔ڈسکہ اور سیالکوٹ کے درمیان سیدھی سڑک سے ۱۶ میل کا فاصلہ ہے۔چونکہ یہ سڑک کچی ہے۔اس لئے آپ گھوڑے پر یہ سفر کیا کرتے تھے۔گویا اُن دنوں ہر روز سردی میں (فروری کا مہینہ تھا ) ۳۲ میل سواری کیا کرتے تھے۔اور تمام دن کچہری میں کام بھی کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ گھر پر بھی مقدمات کی تیاری کے لئے وقت نکالتے ہو نگے۔جس دن والد صاحب کی وفات ہوئی۔اُس دن چوہدری صاحب اُن کے پاس ڈسکہ ہی میں تھے۔تار کے ذریعہ خبر ملنے پر چوہدری صاحب کی اہلیہ محترمہ تینوں بچوں (چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب، ان کی ہمشیرہ صاحبہ اور چوہدری شکر اللہ خاں صاحب) کو لے کر سیالکوٹ سے اُسی وقت ڈسکہ روانہ ہوگئیں۔ڈسکہ پہنچے تو دیکھا کہ گھر میں اور مہمان خانہ میں ایک بہت بڑا ہجوم تھا۔اور مرحوم کے جنازہ کے ساتھ اس قدرا نبوہ خلقت کا تھا کہ بازار میں سے گذرنے پر لوگوں کو ڈ کا نیں بند کرنی پڑیں۔آپ کی وفات اپنے خاندان کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا۔اور چونکہ اپنی بہو ( اہلیہ چوہدری نصر اللہ خاں صاحب) کے ساتھ انہیں خاص محبت اور شفقت کا تعلق تھا، اسلئے انہوں نے اس صدمہ کو بہت محسوس کیا۔اور جیسا اُن دنوں میں رواج تھا۔اُنکے ماتم میں بہت بڑھ کر حصہ لیا۔لیکن مرحوم کو ایسی رسوم سے سخت نفرت تھی۔چنانچہ کچھ عرصہ اُن کی وفات کے بعد اہلیہ محترمہ چوہدری صاحب نے انہیں خواب میں دیکھا۔اور انہوں نے آپ کو ساتھ لے جاکر جہنم کا ایک نظارہ دکھایا۔جہاں چند عورتوں کو دردناک عذاب دیا جارہا تھا۔اور بتایا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو ماتم کیا کرتی تھیں اور