اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 219 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 219

219 جو جولانیاں دکھائی ہیں ، ان سے یہ مجلس مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔آپ نے اس جوہر لطیف کو اعلائے کالمۃ اللہ اور ابطال بج باطلہ کے لئے وقف کر رکھا ہے۔آپ کے دائرہ علم کی وسعت کے باعث آپ کی تقریر کے موضوعات تنوع اور جدت کے حامل ہیں۔حاشیہ میں بعض تقاریر کے حوالہ جات درج کئے جاتے ہیں اور آپ کے فن خطابت کی جاذبیت اور آپ کے دماغی جلا کے اظہار کے لئے حاشیہ میں چند ایک خلاصے بھی شامل کئے گئے ہیں۔آپ کی دینی و دنیوی علوم سے گہری واقفیت اور عبور اور وسیع مطالعہ اور تجربہ نے آپ کے ملکہ خطابت کو ایک خاص جلا بخشا ہے۔بقیہ حاشیہ: - (۳) اخراجات جلسہ سالانہ کے لئے جماعت لاہور نے (بشمول چندہ چوہدری صاحب پچیس روپے) چار صد پندرہ روپے دیئے اور دوصد مزید متوقع تھا (الفضل ۱۸/۱۲/۱۸ ص ۱۰ ک ۲)۔گویا آپ نے جماعت لاہور کے اس چندہ کا چار فیصدی ادا کیا۔اگر آپ کے پچیس روپے کی اہمیت اس زمانہ میں نہ ہوتی تو بالخصوص ایسے چند احباب کا ذکر نہ کیا جاتا۔اور یہ تو صرف چندہ جلسہ سالانہ تھا۔دیگر چندہ جات حصہ آمد اس کے علاوہ ہیں۔۱۹۔۱۹۱۸ء میں لاہور کا مجموعی چندہ صرف تین ہزار سات سوسترہ روپے دو آنہ تھا۔اور اس سے گذشتہ سال اس سے اڑھائی ہزار کم تھا ( رپورٹ سالانہ صدرانجمن ص ۵۹ و ۶۶)۔اور ۲۰۔۱۹۱۹ء میں لا ہور بشمول چھاؤنی کا مجموعی چندہ قریباً سات ہزار روپیہ تھا۔(رپورٹ سالانہ ص ۴۰) (۴) جلسہ سالانہ ۱۹۲۱ء پر ناظر صاحب بیت المال نے محکمانہ رپورٹ میں بتایا کہ اس سال تک صدر انجمن احمد یہ ایک لاکھ روپیہ کی مقروض ہوگئی ہے اور بعض احباب کو ایک ہزار روپیہ فی کس کی ادائیگی کی تحریک کی گئی۔اس وقت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور پھر حافظ روشن علی صاحب (رضی اللہ عنہما ) نے چندہ کی خصوصاً تحریک کی۔اس وقت چندہ دھڑا دھڑ ہو رہا تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے تجویز پیش کی کہ سٹیج پر بیٹھے ہوئے احباب دو ہزار روپیہ مجموعی طور پر پیش کریں۔اگر چہ عام اپیل میں بھی سٹیج والے احباب چندہ میں شرکت کر چکے تھے۔تاہم اس تحریک پر عمل کرنے کے لئے چوہدری صاحب اور سید بشارت احمد صاحب ( دکن ) نے سٹیج والوں سے نقد چندہ اور وعدے لینے شروع کئے جو تین ہزار ہو گئے۔جلسہ میں نقد تیرہ ہزار روپیہ اور وعدے سات ہزار سے اوپر کے ہوئے۔یہ بھی مرقوم ہے کہ چندہ جمع کرنا مقصود نہ تھا اس لئے یہ خیال نہ کیا جائے کہ تحریک کامیاب نہ ہوئی۔