اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 174 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 174

174 کے چارٹر کا سب سے ضروری مقصد ہے۔اس سے قبل مسئلہ کشمیر اور فلسطین سے متعلق سر ظفر اللہ خاں سکیورٹی کونسل اور جنرل اسمبلی میں معرکتہ الآراء تقریریں کر چکے ہیں۔لیبیا کے مستقبل ، سالی لینڈ اور ار بیٹریا کی خود مختاری اور انڈونیشیا کی آزادی کے سلسلہ میں ان کی بار آور کوششیں ضرب المثل ہیں۔سر ظفر اللہ خان نے کچھ عرصہ ہوا۔فرمایا تھا کہ جہاں کہیں آزادی کی جدوجہد کا اعلان ہوتا ہے۔پاکستان سب سے پہلے لبیک کہتا ہے۔اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیا یہ لبیک سر ظفر اللہ خاں کی حق شناس آواز کے ذریعہ سنتی ہے۔امریکی نمائندہ سینیٹر وارن آسٹن نے آپ کو عظیم ترین سیاست دانوں میں سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ: خواہ وہ با قاعدہ رسمی جلسے سے خطاب کر رہے ہوں یا غیر رسمی بات چیت میں حصہ لے رہے ہوں۔وہ کبھی راست گوئی و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔فلسطین کے مسئلے اور افریقہ میں اطالوی نو آبادیات کے مستقبل کے بارے میں انہوں نے عربوں کی حمایت میں نہایت زور دار تقاریر کیں۔بالخصوص آخر الذکر مسئلہ کے ضمن میں انہوں نے لیبیا کو اٹلی کے حوالے کرنے سے متعلق مغربی طاقتوں کی تجویز کو نا کام بنانے میں چھوٹی اقوام کی کامیابی سے قیادت کی وہ نہایت ہی نمایاں شان کی حامل تھی۔۷۴ ، روز نامہ احسان لاہور نے اس بارہ میں لکھا کہ : 206 یہ امر ہر لحاظ سے باعث مسرت ہے کہ مسئلہ پر مقدمہ کے تارو پود بکھیر کر پاکستانی وزیر خارجہ نے ساری دنیا پر واضح کر دیا ہے۔ویسے چھ گھنٹہ تقریر کرنا بھی دنیا کی سب سے بڑی انجمن میں کوئی آسان کام نہیں۔اس سے مقرر کی غیر معمولی قوت تقریر اور محنت ہی کا اندازہ نہیں ہوتا بلکہ خود مسئلہ پر بحث کی صداقت بھی آشکار ہوتی ہے۔جب تک موضوع میں جان نہ ہو محض لفظی جمع خرچ سے کام نہیں چلتا۔حقیقت تو ہے کہ سر محمد ظفر اللہ خاں نے مسئلہ اس خوبی اور جانفشانی سے پیش کیا کہ انہوں نے اپنے حریف کو شکست فاش دے دی اور اسے میدانِ سیاست میں آنے کا نہیں چھوڑا۔اکیس ہفتوں کے قلمی اور عقلی معرکوں کے بعد سر ظفر اللہ اپنے وطن لوٹے۔“ ( مورخہ ۲ جولائی ۶۴۹) روز نامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ایک اداریہ میں رقمطراز ہے:۔