اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 173 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 173

173 برما کے سفیر مقیم کراچی عزت مآب اور پے رکھن نے ٫۴۹ارے کو برموقعہ سالانہ دعوت منجانب ادارہ پاکستان برائے بین الاقوامی امور میں تقریر کرتے ہوئے کہا:۔مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں اس وقت سے چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو جانتا ہوں کہ جب میں ابھی رنگون میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔اور اب کراچی میں آنے کے بعد تو مجھے بہت قریب سے آپ کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔حال ہی میں دنیا کے سب سے بڑے ادارے یعنی اقوام متحدہ میں مجھے آپ کی تقریر سننے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔وہاں مجھے اندازہ ہوا کہ کس قدر اقوام عالم کے نمائندے آپ کی طرف متوجہ تھے۔اور جو نقطہ نظر آپ پیش کر رہے تھے۔اس کی طرف مقناطیسی قوت کے ساتھ دنیا کی توجہ منعطف کرانے میں آپ کس درجہ کامیاب تھے۔تقریر میں آپ بہت صاف گوئی سے کام لینے کے عادی ہیں۔اور شاید اس بنا پر بعض اوقات آپ کے متعلق یہ غلط نہی پیدا ہوسکتی ہے کہ دوسروں کے لئے آپ ہمدردی کے جبہ سے خالی ہیں۔لیکن میں آنریبل وزیر خارجہ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم سفارتی حلقوں کے نمائندے اس صاف گوئی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔بالخصوص میرے لئے یہ امر باعث مسرت ہے کہ آپ سے میرا جب بھی واسطہ پڑا ہے۔آپ نے اپنا مافی الضمیر سمجھانے میں مجھے کبھی شک میں نہیں پڑنے دیا۔ہم لوگ جنہیں آپ سے واسطہ پڑتا ہے ، آپ کی سادہ زندگی اور بلند خیالی کی وجہ سے آپ کو بہت عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔“ وو خبر نامه اقوام متحدہ نے اپنے تبصرہ میں لکھا کہ : آنریبل سرمحمد ظفر اللہ خاں اقوام متحدہ کے حلقوں میں بہت ممتاز درجہ رکھتے ہیں۔ان کی قانون دانی، بلاغت و فصاحت اور نقطہ رسی کا ہر ممبر ملک قائل ہے۔جنرل اسمبلی اور اس کے ماتحت کمیٹیوں میں جب کبھی ظفر اللہ خاں تقریر کرتے ہیں تو شائقین اس کثرت سے جمع ہوتے ہیں کہ اکثر مرتبہ بیٹھنے کو جگہ نہیں ملتی۔بین الاقوامی مسائل کی موشگافیاں گذشتہ پانچ سال میں سر محمد ظفر اللہ خاں نے جس خوبی سے کی ہیں۔اس کی تعریف سب نے کی ہے۔گذشتہ سال جنرل اسمبلی کے پیرس والے اجلاس میں عراق اور ملک شام کے نمائندوں کے تعاون سے انہوں نے تخفیف اسلحہ کے مسئلے پر جو تقریر کی تھی۔اسے اقوام متحدہ کی بلند ترین تقریروں میں گنا جاتا ہے۔اور سیاستدانی کی اعلیٰ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اسی تقریر کا نتیجہ تھا کہ بڑی طاقتوں کے نمائندے دس روز تک تخفیف اسلحہ پر تبادلہ خیالات کر سکے۔اور مختلف الخیال ملکوں کو ایک مرکز پر جمع ہونے کا موقعہ مل گیا۔جو اقوام متحدہ