اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 6 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 6

6 سے پہلے تین کی ولادت و وفات تو اُس زمانہ میں ہوئی جب بچوں کے والد بھی طالبعلم ہی تھے۔اور آخری دو کی ان کی مختاری اور وکالت کے زمانہ میں۔ان میں سے ہر ایک بچہ کی وفات ان کی والدہ کے لئے ایک امتحان بن گئی۔لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اسکے رحم سے ہر موقعہ پر ثابت قدم رہیں اور کسی وقت بھی ان کے قدم جادہ صدق سے ادھر ادھر نہیں بھٹکے۔اور یہ ابتلاء آپ کے لئے اصطفاء کا موجب ہوئے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ انیس بیس سال کی عمر میں میں نے خواب دیکھا کہ میرے تایا صاحب نے کئی عورتوں کو روپے دئے۔میرے اصرار پر مجھے دو اٹھنیاں اور تین روپے دئے اور کہا کہ یہ تمہارے پاس رہیں گے نہیں۔چنانچہ میں نے مٹھی کھولی تو وہ شیشے بن چکے تھے۔اور پھر وہ ریزہ ریزہ ہو گئے۔اور میں نے انہیں باہر پھینک دیا۔اس خواب کے سات ماہ بعد ایک مُردہ لڑکی پید ا ہوئی۔پھر چارسال بعد بڑا بیٹا پیدا ہوا۔جس کا نام بھی ظفر ہی تھا۔آپ ان بچوں میں سے ظفر اور رفیق کا نہایت محبت کے ساتھ ذکر فرماتیں اور ان کی خوش شکلی کی بہت تعریف کیا کرتی تھیں۔ظفر کی ولادت کے سات روز بعد آپ کے میکہ کے گھر وہاں کی ایک ہندو عورت ہے دیوی نام آئی اور پوچھا کہ ساہی راجہ کہاں ہے ؟ * * آپ نے گود میں بچہ کی طرف اشارہ کر کے کہا۔پھوپھی یہ ہے۔وہ جب چلی گئی تو بچے نے خون کی قے کی اور اُسے خون کے دست آئے۔جے دیوی کو لوگوں نے چڑیل یا ڈائن مشہور کر رکھا تھا۔اور وہ بھی اس شہرت یا بدنامی کا فائدہ اُٹھا لیا کرتی تھی۔بچہ کا علاج شروع کیا گیا۔ایک آدمی تعویذ دے گیا۔اور ایک عورت نے یہ تعویذ بچے کے گلے میں ڈالنا چاہا۔لیکن بچے کی والدہ نے یہ تعویذ چھین کر چولھے کی آگ میں پھینک دیا۔اور کہا کہ میرا بھروسہ اپنے خالق و مالک پر ہے۔میں ان تعویزوں کو کوئی وقعت نہ دوں گی۔بچہ دوماہ کا ہوا تو آپ اسے اپنے سسرال موضع ڈسکہ لے آئیں اور چھ ماہ وہاں قیام رہا۔اب اس عنوان میں مندرجہ بعض رؤیا ” میری والدہ اور الحکم مورخہ ۳۵ /۲۸/۱ دونوں میں درج ہیں۔مؤخر الذکر میں یہ محترمہ کا اپنا لکھوایا ہوا بیان ہے۔یہاں میں نے دونوں کو مخلوط کر کے درج کیا ہے۔اور جہاں قدرے اختلاف پایا ہے۔وہاں والدہ محترمہ کے بیان کو ترجیح دی ہے۔کیونکہ یہ ان کی آپ بیتی ہے۔الحکم سے بعض مزید رؤیا بھی شامل کر دی ہیں۔* * ساہی قوم سے حضرت چوہدری صاحب تعلق رکھتے تھے۔