اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 157 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 157

157 تھا۔اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ اگر دشمن نہ ہو تو کوئی دشمن کیا بگاڑ سکتا ہے۔اور میں تو اس لحاظ سے کسی کو دشمن سمجھتی ہی نہیں۔دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کے بارہ میں کہا کرتی تھیں کہ جس سے دل خوش ہو ، اس کے ساتھ تو حسن سلوک کے لئے تو خود ہی دل چاہتا ہے۔اس میں ثواب کی کون سی بات ہے۔اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے تو انسان کو چاہیئے کہ ان لوگوں سے بھی احسان اور نیکی سے پیش آئے جن پر دل راضی نہ ہو۔ڈسکہ کے لوگوں کے ساتھ والدہ صاحبہ کا سلوک ہمیشہ بہت فیاضانہ اور غریب پروری کا ہوا کرتا تھا۔اور باوجود اختلاف مذہب و عقائد کے وہاں کے لوگ غیر مسلم اور غیر احمدی سب ان کو بہت عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔لیکن جب احرار کا فتنہ اٹھا تو آہستہ آہستہ ہمارے گاؤں کے غیر احمدی بھی اس سے متاثر ہو گئے۔اور مختلف طریق سے احمدیوں کو دکھ دینے لگے۔ہمارے خاندان کے بعض افراد کو خصوصیت سے ایذا دہی کا نشانہ بنایا گیا۔والدہ صاحبہ کو قدرتی طور پر ان واقعات سے رنج پہنچتا تھا۔لیکن ان کے نتیجہ میں ان کے حسن سلوک میں کمی نہ آتی تھی۔اگر ہمارے آدمیوں میں سے کوئی اس قسم کا اشارہ بھی کرتا کہ یہ لوگ تو ہمارے دشمن ہیں۔آپ ان سے ایسا سلوک کیوں کرتی ہیں تو وہ اس کو برا منایا کرتیں۔اور ہمیشہ یہی جواب دیا کرتیں کہ جس کا اللہ دشمن نہ ہو۔اس کا اور کوئی دشمن نہیں ہوسکتا۔ان کا اکثر یہ معمول تھا کہ یتامی اور مساکین کے لئے اپنے ہاتھ سے پار چات تیار کرتی رہتی تھیں۔اور بغیر حاجتمند کے سوال کے انتظار کئے ، ان کی حاجت روائی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کے مطابق کرتی رہتی تھیں۔ایک روز ڈسکہ میں کچھ پار چات تیار کر رہی تھیں کہ میاں جہاں نے دریافت کیا۔یہ پار چات کس کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا فلاں شخص کے بچوں کے لئے۔میاں جہاں نے ہنس کر کہا۔آپ کا بھی عجیب طریق ہے۔وہ تو احراری ہے اور ہمارا مخالف ہے۔اور یہ لوگ ہر روز ہمارے خلاف کوئی نہ کوئی نئی شرارت کھڑی کر دیتے ہیں۔اور آپ اس کے بچوں کے لئے کپڑے تیار کر رہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا وہ شرارت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرتا ہے۔جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے۔مخالف کی شرارتیں ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔لیکن یہ شخص مفلس ہے۔اس کے پاس اپنے بچوں اور پوتوں کے بدن ڈھانکنے کے لئے کپڑے مہیا کرنے کا سامان نہیں۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ اس کے بچے اور پوتے ننگے پھریں؟ اور تم