اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 154 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 154

154 رسوم اور بدعات سے بیزاری: مرحومہ کو رسوم و بدعات سے بیزاری تھی۔چنانچہ محترم چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں : چوہدری بشیر احمد صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدہ صاحبہ کو بدعات اور رسوم سے کس قدر نفرت تھی۔وہ کہتے ہیں۔میری شادی کا موقعہ تھا۔نکاح کے بعد مجھے زنانہ میں بلایا گیا۔میں نے دیکھا کہ جیسے دیہات میں رواج ہے۔دو نشستوں کا ایک دوسری کے مقابل انتظام کیا گیا ہے اور مجھ سے توقع کی جارہی ہے کہ میں ایک نشست پر بیٹھ جاؤں اور دوسری پر دلہن کو بٹھا دیا جائے اور بعض رسوم ادا کی جائیں جنہیں پنجابی میں ”بیٹ وگھوڑی کھیلنا“ کہتے ہیں۔میں دل میں گھبرایا۔لیکن پھر میں نے خیال کیا کہ اس وقت عورتوں کے ساتھ بحث اور ضد مناسب نہیں۔اور میں اس نشست پر جو میرے لئے تجویز کی گئی تھی بیٹھ گیا۔اور ان اشیاء کی طرف جو اس رسم کے لئے مہیا کی گئیں تھیں ، ہاتھ بڑھایا۔اتنے میں ممانی صاحبہ (خاکسار کی والدہ صاحبہ ) نے میرا ہاتھ کلائی سے مضبوط پکڑ کر پیچھے ہٹا دیا اور کہا نہ بیٹا یہ شرک کی باتیں ہیں۔اس سے مجھے بھی حوصلہ ہو گیا۔میں نے ان اشیاء کو اپنے ہاتھ کے ساتھ بکھیر دیا اور کھڑے ہو کر کہہ دیا کہ میں ان رسوم میں شامل نہیں ہوں گا۔اور اس طرح میری مخلصی ہوئی۔“ جرات اور رحمدلی : (میری والدہ) آپ کو اللہ تعالیٰ نے جرات مند بنایا تھا اور رحمدل بھی۔چوہدری صاحب لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے والدہ صاحبہ کو جرات اور حوصلہ بھی بہت عطا فرمایا تھا۔کسی کے دکھ یا درد کی حالت دیکھ کر سن کر ان کا دل فوراً پکھل جاتا تھا۔بعض دفعہ کسی بچے کے رونے کی آواز ان کے کان میں پڑ جاتی تھی تو ان کی نیند اچاٹ ہو جاتی تھی۔لیکن اگر کوئی ایسا موقعہ پیش آ جائے جہاں انہیں اپنی ہی ہمت پر انحصار کرنا پڑ جائے تو ایسے وقت میں وہ اپنی تمام کمزوریوں کو فراموش کر دیتی تھیں اور مردانہ حوصلہ کا نمونہ دکھاتی تھیں۔۱۹۳۳ء کا واقعہ ہے کہ خاکسار انگلستان گیا ہوا تھا۔والدہ صاحبہ ان دنوں ماڈل ٹاؤن میں مقیم تھیں۔ایک روز ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے سلام پھیر نے پر سامنے کے ایک مکان پران