اصحاب احمد (جلد 11) — Page 146
146 ہے اس پر لاکھوں زندگیاں شمار ہیں۔آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ چوہدری صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام پر اٹھائے۔اور سلسلہ کو ان کا نعم البدل دے۔اور آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل۔آمین خاکسار حزین عرفانی از لنڈن ( الفضل ۱۲ و ۱۶ نومبر ۱۹۲۶ء) (۱۲) جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے خاکسار کے عرض کرنے پر ذیل کے بعض متفرق واقعات اور تاثرات رقم فرمائے ہیں: والد صاحب نے ہماری ہمشیرہ صاحبہ مرحومہ کو اس زمانہ کے رواج کے مطابق ان کی شادی کے موقعہ پر بہت سا جہیز دیا تھا۔(البتہ ) آپ نے اپنی وصیت میں یہ ہدایت لکھ دی تھی کہ آپ کا ورثہ مطابق شرع محمدی تقسیم ہو۔چنانچہ آپ کی وفات کے بعد اس ہدایت کے مطابق ہمشیرہ صاحبہ مرحومہ کو ان کا حصہ ادا کرنے کا انتظام ان کی مرضی کے مطابق کر دیا گیا۔میری طبیعت پر بچپن سے یہ اثر تھا کہ والد صاحب نماز بہت پابندی کے ساتھ اور سنوار کر ادا فرمایا کرتے تھے اور تہجد کا التزام رکھتے تھے۔میں اپنے تصور میں اکثر والد صاحب کو نماز پڑھتے یا قرآن کریم کی تلاوت کرتے دیکھتا ہوں۔بیعت کر لینے کے بعد فجر کی نماز کبوتر انوالی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔مسجد ہمارے مکان سے فاصلے پر تھی۔اس لئے والد صاحب گھر سے بہت اندھیرے ہی روانہ ہو جایا کرتے تھے۔کبھی کبھی مجھے بھی آپ کے ساتھ جانے کا اتفاق ہو جایا کرتا تھا۔گومیری عمر بھی اس وقت چھوٹی تھی۔قرآن کریم کے ساتھ آپ کو بہت محبت تھی۔عشاء کی نماز کے بعد سونے تک اکثر قرآن کریم کی تلاوت میں گزارتے تھے۔میرے انٹرنس کے امتحان میں چھ ماہ کے قریب باقی تھے کہ ایک دن آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: قرآن مجید کا ترجمہ کتنا پڑھ لیا ہے۔“ ان دنوں میں مکرمی جناب مولوی فیض الدین صاحب سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا کرتا تھا۔میں نے جواب دیا۔ساڑھے سات سپارے پڑھے ہیں۔فرمایا: تمہارا امتحان قریب آرہا ہے۔جب تم کالج چلے جاؤ گے تو ان امور کی طرف توجہ کم ہو جائے