اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 139 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 139

139 رہے۔آخر جب قادیان سے ایک وفد سیالکوٹ پہنچا تو چوہدری صاحب نے ( باوجودیکہ اس وقت تک حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے بیعت نہ کی تھی اور وہ احباب کو کچھ اور دیر تک بیعت نہ کرنے کا مشورہ دے رہے تھے ) بیعت کر لی۔اور جب ان سے کہا گیا کہ ابھی شاہ صاحب نے بیعت نہیں کی ، تو چوہدری صاحب نے نہایت دلیری اور ایمانی قوت کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے شاہ صاحب کے لئے سلسلہ کی بیعت نہ کی تھی اور نہ شاہ صاحب کے لئے اب رک سکتے ہیں۔شاہ صاحب بیعت کریں یا نہ کریں ، میں تو بیعت کرتا ہوں۔چوہدری صاحب کی اس تقریر کا بہت بڑا اثر ہوا۔اور جو لوگ محض شاہ صاحب کی وجہ سے اب تک رکے ہوئے تھے ، ان میں قوت اور جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے فوراً بیعت کر لی۔اس لحاظ سے چوہدری نصر اللہ خاں صاحب سیالکوٹ کی جماعت کے احیاء کا موجب ہو گئے۔” میرا اپنا یہی اعتقاد ہے کہ خلافت ثانیہ میں جماعت کی ایک تجدید ہوئی ہے۔اور اسی لحاظ سے میں یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتا کہ سیالکوٹ کی جماعت کو زندہ رکھنے کا فضل چوہدری صاحب کے حصہ میں آیا۔میں جانتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے حضور وہ لوگ سابق بالخیرات ہیں اور ان کے مدارج الگ ہیں جو چو ہدری صاحب سے بھی پہلے خلافت کی بیعت کر چکے تھے اور جن کو کوئی ابتلا ء ہی نہیں آیا۔مگر چوہدری صاحب کی شان بالکل جدا ہے اور میں ایک بصیرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ پیچھے آ کر سب سے آگے ہو گئے۔ان کے بیعت کر لینے سے جماعت سیالکوٹ کو بہت بڑی تقویت ہو گئی۔اور سچ تو یہ ہے کہ خود حضرت شاہ صاحب بھی پھر زیادہ عرصہ تک جدانہ رہ سکے۔اور آخر بیقرار ہو کر وہ حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر عہد وفا کرنے پر مجبور ہو گئے۔چوہدری صاحب کی زندگی میں اب بالکل نئے دور کا آغاز ہوا۔اور وہ بیج جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرتے وقت ان کے قلب مطہر میں بویا گیا تھا ، بار آور درخت کی صورت میں نمایاں ہونے لگا۔اور ان کی تمام تر توجہ اس امر کی طرف ہوگئی کہ وہ تمام کاروبار کو چھوڑ کر بالکل دین کو دنیا پر مقدم کرلیں۔اور سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے اوقات گرامی کو لگا دیں۔کہنے کے لئے یہ بہت آسان ہے۔لیکن غور کرو کہ ایک کامیاب وکیل جس کو اپنے کاروبار کے لئے کسی تگ دو کی ضرورت نہیں ، اپنے چلتے ہوئے کاروبار کومحض خدا کی رضاء کے لئے چھوڑ دے۔کیا آسان امر ہے؟ ہر گز نہیں۔چوہدری صاحب کے جانے والے جانتے ہیں کہ وہ ایک نہایت ہی کامیاب وکیل تھے اور وو