اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 138 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 138

138 واقعات ایسے ہو سکتے ہیں جو ان کی علمی اور قانونی قابلیتوں پر روشنی ڈالیں گے۔مگر میں صرف ان کی زندگی کے اس حصہ پر مختصر تبصرہ کر جاتا ہوں جو سلسلہ احمدیہ سے تعلق رکھتا ہے۔وباللہ التوفیق“۔سلسلہ میں داخل ہو جانے کے بعد ان کی توجہ سلسلہ کے لٹریچر پڑھنے اور اس کی عملی تبلیغ کی طرف ہوئی۔اور چونکہ وہ اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ، اس کا اثر اکثر لوگوں پر ہوا۔اور دیہات سیالکوٹ میں لوگوں نے یہ تسلیم کیا کہ جب چوہدری نصر اللہ خاں صاحب جیسا آدمی اس سلسلہ میں داخل ہوا ہے، تو یہ معمولی امر نہیں۔اور خدا کے فضل سے اس طرح پر ضلع سیالکوٹ میں تبلیغ کا راستہ کھل گیا۔وو چوہدری صاحب سلسلہ کے کاموں میں پورا حصہ لیتے تھے۔اور سیالکوٹ کی انجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ تھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو ان کے داخلِ سلسلہ ہونے پر بہت خوشی ہوئی۔مگر افسوس ہے کہ وہ زیادہ دیر تک اس خوشی کا لطف نہ اٹھا سکے اور موت نے ان کو اپنے نہایت ہی پیارے دوست سے جدا کر دیا۔اور چند ہی سال بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی رفع ہو گیا۔خلافتِ ثانیہ کے ابتدائی ایام چوہدری صاحب خلافتِ اولی کے زمانہ میں بھی بدستور ترقی کرتے رہے۔یہاں تک کہ خدا کی مشیت نے حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا اور جماعت پر ایک عہد انقلاب و ابتلاء آ گیا۔اور چندلوگوں نے جو انجمن کے کار پرداز اور اس طرح پر جماعت پر بخیال خویش ایک قابو اور اثر رکھتے تھے، خلافت سے بغاوت کی اور نظام خلافت کو توڑنے کی بے سود کوشش کی ، جس کا نتیجہ قدرتی طور پر یہ ہوا کہ وہ جماعت سے کٹ گئے۔اور انہوں نے لاہور جا کر علم مخالفت بلند کیا۔سب احباب کو اس علیحدگی سے رنج اور تکلیف تھی۔مگر حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے محض اس خیال سے کہ وہ ان بھولے ہوئے بھائیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔کچھ دنوں بیعت خلافت نہ کی۔اور چوہدری صاحب نہایت باریک بینی سے اس اختلاف کا مطالعہ کرتے حضرت عرفانی صاحب نے یہاں جو کچھ آپ کے قبول احمدیت کے متعلق حالات تحریر فرمائے تھے وہ ابتدائے کتاب میں درج ہو چکے ہیں۔اس لئے یہاں سے حذف کر دیئے گئے ہیں۔