اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 137 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 137

137 صاحب کے ہمراہ ایک ووٹر کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئی۔میں مناسب نہیں سمجھتا کہ ان کا نام لوں۔وہ صاحب خود بھی عرصہ دراز تک وکیل رہے اور ہمارے سلسلہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں بلکہ من وجہ مخالفت ہے۔وہ چوہدری صاحب کے اور ٹیکل کالج میں کلاس فیلو تھے۔اور خود ذہین اور ممتاز طالبعلموں میں سے تھے۔جب ہم ان سے ملنے کے لئے گئے تو وہ گھر میں تھے۔چونکہ وہ پبلک زندگی سے کسی قدر ریٹائر ہو چکے ہیں ، اس لئے عام طور پر لوگوں سے ملتے بھی نہیں۔لیکن جب چوہدری صاحب کی اطلاع دی گئی تو وہ نہایت محبت اور تپاک سے آکر ملے اور ان کو بہت ہی خوشی ہوئی۔معمولی رسمی باتوں کے بعد ہم نے ان سے اظہار مطلب کیا۔اور چوہدری صاحب نے کہا اگر چہ ہمارا اور آپ کا مذہبی اختلاف ہے لیکن میں آپ کو ایک سنجیدہ اور معاملہ فہم آدمی سمجھتا ہوں۔اگر چہ میرا بیٹا بطور ایک امیدوار کے کھڑا ہوا ہے۔مگر میں محض باپ ہونے کی وجہ سے چوہدری ظفر اللہ خاں کے لئے آپ کو رائے دینے کے لئے نہیں کہتا بلکہ میں جانتا ہوں کہ وہ بہترین امیدوار ہے۔پس اگر آپ سمجھتے ہوں کہ وہ اس قابل ہے تو رائے دیں۔ورنہ جس کو آپ کا جی چاہے دے دیں، جو اس سے بہتر ہو۔وکیل صاحب موصوف نے کہا کہ میں اس موقعہ پر رائے دینے کے لئے نہ جانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب قابل ہیں ، تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ سچ کہتے ہیں اور میں محض اس لئے ایک بہترین آدمی اسمبلی میں جائے ، رائے دوں گا۔اور میں مذہبی اختلاف کو اس میں روک نہیں سمجھتا یہ مذہب کا سوال نہیں۔چوہدری صاحب نے مزید سلسلہ گفتگو میں کہا کہ ہمارے مخالف ضرور کہیں گے کہ وہ احمدی ہے۔اور علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ اس کو رائے نہ دی جائے۔اگر آپ پر ان علماء کا یا ان لوگوں کا اثر ہے تو بہتر ہے کہ آپ ابھی فیصلہ کر دیں۔ہم آپ کو مجبور نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ میری رائے پر دوسروں کا اثر نہیں۔میں سب کو جواب دے چکا ہوں۔آپ کو میں اس وقت سے جانتا ہوں۔آپ خلاف واقعہ بات نہیں کہتے۔غرض وہ رائے دینے پر ہی آمادہ نہ ہوئے ، بلکہ پولنگ اسٹیشن پر لوگوں نے بہت کچھ ان کو کہا اور مخالفت کرنی چاہی۔انہوں نے سب کا مقابلہ کیا۔اس موقع پر جس امر نے مجھے بہت خوش کیا، وہ یہ تھا کہ چوہدری صاحب نے صحیح واقعات کے بیان کرنے میں مضائقہ نہ کیا۔اور وکیل صاحب موصوف نے چوہدری صاحب کی سابقہ زندگی پر بھی روشنی ڈالی کہ وہ ہمیشہ صاف گوئی اور سچ کہنے کے عادی تھے۔ان کی زندگی کے بہت سے