اصحاب احمد (جلد 11) — Page 119
119 میں نے بیعت کی تھی۔(۷) محترم میاں محمد شریف صاحب ای ، اے ہی پینشنز ( صحابی مقیم ربوہ ) نے اخویم مولوی سلطان احمد پیر کوئی سے بیان کیا کہ چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی وکالت میں قابلیت اور دیانت کا اس امر سے علم ہوتا ہے کہ بعض پیچیدہ اور اہم مقدمات میں خود جج صاحبان فریقین کو ہدایت کرتے تھے کہ آپ سے مشورہ کر یں۔(۸) محترم شیخ محمد الدین صاحب سابق مختار عام صدر انجمن احمد یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم بہت کم گو حلیم الطبع ، قانون دان انسان تھے۔آپ کی رہائش بورڈ نگ تعلیم الاسلام قادیان کے قریب بالا خانہ میں تھی۔دفتری اوقات سے فراغت کے بعد قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف رہتے۔گھر میں ایک قالین تھا۔اس پر نوافل پڑھتے تھے۔صبح ، ظہر اور عصر مسجد مبارک میں اور مغرب اور عشاء مسجد نور میں باجماعت ادا کرتے تھے۔سر پر رومی ٹوپی ، ہاتھ میں سوئی رکھتے تھے۔داڑھی مہندی سے رنگتے تھے۔حد درجہ کے شریف اور بہت بزرگ انسان اور خدا تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہنے والے تھے۔صدر انجمن احمد یہ قادیان کے عہدوں پر آنریری کام کرتے تھے۔وقت کے پابند تھے۔بہت باقاعدگی سے دفتر میں جاتے اور وقت ختم ہونے پر دفتر سے واپس آتے تھے۔اول وقت پر حاضر ہو کر تمام دفاتر میں جا کر عملہ کی حاضری کی پڑتال فرماتے ، نیز یہ بھی فرماتے تھے کہ مجھے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت دی ہوئی ہے کہ میں اس طرح دفاتر میں جاکر پڑتال کروں کہ کیا ناظر صاحبان وقت پر دفاتر میں آتے ہیں۔حضور کے بلند اخلاق کے ضمن میں یہ بھی فرماتے تھے کہ جب میں حضرت کے حضور قصر خلافت میں جاتا ہوں تو حضرت کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ بھی بتلایا کہ میں کپڑا لا ہور اور سیالکوٹ سے لاتا ہوں لیکن سلوا تا قادیان کے درزیوں سے ہوں تا کہ قادیان میں قیام رکھنے والوں کو اجرت کی شکل میں فائدہ پہنچے۔اپنے ماتحتوں کے ساتھ چوہدری صاحب بہت محبت ، شفقت اور پیار کا سلوک کرتے ، اور ان کی ذاتی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھتے تھے۔ابتداء میں آپ کا یہ طریق رہا کہ مجھ سے آمد ڈاک سنتے اور پھر جو جوابات میں لکھتا اسے سننے کے بعد دستخط فرماتے۔ایک دن قریباً چھ ماہ بعد فرمانے لگے جہاں دستخط لینے ہیں ، انگلی رکھتے جاؤ اور دستخط کراتے جاؤ۔جب ڈاک پر دستخطوں سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا کہ آج معمول کے