اصحاب احمد (جلد 11) — Page 97
97 ایک دفعہ انہوں نے مجھ سے کہا۔میں بعض دفعہ حیران ہوتی ہوں کہ تم میری اس قدر اطاعت کیوں کرتے ہو۔میں نے جواب دیا کہ اول تو اس لئے کہ آپ میری والدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اطاعت مجھ پر فرض کی ہے۔دوسرے اس لئے کہ میں آپ کی طرف سے لا انتہا محبت کا مورد ہوں۔تیسرے اس لئے کہ میں خواہش رکھتا ہوں کہ جب آپ والد صاحب سے ملیں تو ان سے کہہ سکیں کہ آپ کے بیٹے نے میری پوری اطاعت کی اور میں اس سے خوش رہی۔جب میں نے یہ آخری بات کہی تو مسکرا کر کہا۔یہ تو میں ان سے ضرور کہوں گی۔وفات کے متعلق دور دیا: وو والد صاحب کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ایک رؤیا میں والدہ صاحبہ نے والد صاحب کو دیکھا۔والد صاحب نے دریافت کیا۔آپ اس قدر افسردہ کیوں ہیں؟ والدہ صاحبہ تو اس پر خاموش رہیں۔ہمارے پھوپھا صاحب چوہدری ثناء اللہ خاں صاحب نے جو پاس تھے جواب دیا۔آپ کی جدائی کی وجہ سے افسردہ ہیں۔اگر آپ کو ان کی افسردگی کی فکر ہے تو آپ انہیں ساتھ کیوں نہیں لے جاتے۔اس پر والد صاحب بھی کچھ افسردہ ہو گئے اور فرمایا: سچ جانئے ابھی ان کا مکان تیار نہیں ہوا۔جب تیار ہو جائے گا میں خود 66 آکر انہیں لے جاؤں گا۔“ تیس سال سے زائد عرصہ ہوا۔انہیں خواب میں بتایا گیا کہ ان کی وفات اپریل کے مہینہ میں ہوگی۔پھر کچھ عرصہ کے بعد بتایا گیا کہ اپریل کے آخری بدھوار کے دن وفات ہوگی۔انہیں اس بات پر یقین تھا کہ یہ اطلاع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔لیکن ساتھ ہی جانتی تھیں کہ رویا اور خواب تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔اور اس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔جنوری ۱۹۳۸ء میں جب خاکسار انگلستان جانے لگا تو والدہ صاحبہ نے دریافت کیا۔اپریل تک واپس آجاؤ گے ؟ میں نے جواب دیا۔امید کرتا ہوں انشاء اللہ۔اس پر انہوں نے بہت اطمینان کا اظہار کیا۔چنانچہ خاکسار یکم اپریل کی شام کو واپس دہلی پہنچ گیا۔انگلستان سے میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں لکھا تھا۔کہ ان شاء اللہ یکم اپریل کو دہلی پہنچ جاؤں گا۔اگر آپ پسند فرمائیں تو دہلی تشریف لے آئیں۔اور اگر سفر کی تکان اور تکلیف کا خیال ہو ، تو پھر انشاء اللہ ۱۳ را پریل کو