اصحاب احمد (جلد 10) — Page 62
62 کیا گیا کہ وہ سب مجھ سے قطع تعلق رکھیں گے میری والدہ کو مجبور آیہ شرط مانا پڑی برادری کے ڈر سے نہ میں ہی والدہ صاحبہ کو مل سکتا تھا۔اور نہ میری والدہ مجھ سے مل سکتی تھیں۔میری والدہ صاحبہ کو مجھ سے بے حد محبت تھی۔وہ میری جدائی کو برداشت نہ کر سکتی تھیں اور روتی رہتی تھیں شام کو دفتر بند کر کے جب میں مسلمانوں کے ہمراہ احمدیہ مسجد کو جاتا اور اپنے محلہ کے پاس سے گذرتا میری والدہ مجھ کو دیکھنے کے لئے بازار کے ایک طرف کھڑی ہو جاتیں۔یہ نظارہ بہت تکلیف دہ ہوتا جب میں ادھر سے گذرتا تو اپنی والدہ کو روتے ہوئے پاتا۔اکثر تو روتے روتے ان کی گھگی بندھ جاتی۔اور دور تک ان کے رونے کی آواز سنائی دیتی مجھ کو بہت تکلیف ہوتی۔مگر برادری کے ڈر سے ہم نہ مل سکتے تھے ایک عرصہ اسی طرح ہوتا رہا۔والدہ صاحبہ کی حالت دن بدن خراب ہونے لگی مجھ سے یہ برداشت نہ ہوسکا میں نے سوچا کہ کسی طرح والدہ صاحبہ سے ملاقات کر کے ان کی دلجوئی کرنی چاہئے۔ہمارے پڑوس میں کچھ گھر مسلمان نیل گروں کے تھے میں نے ایک مسلمان عورت کی وساطت سے والدہ صاحبہ کو کہلا بھیجا کہ میں رات کو فلاں مسلمان کے مکان پر آؤں گا آپ بھی چھپ کر آجائیں وہاں ہم مل لیں گے۔والدہ صاحبہ تو پہلے ہی بیقرار تھیں انہوں نے رضامندی کا اظہار کر دیا۔کافی رات گذرے میں وہاں گیا۔والدہ صاحبہ بھی چھپ کر آگئیں۔بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔اور اس طرح ہماری ملاقات ہونے لگی۔جن دنوں میں نے اسلام کا اعلان کیا اس وقت مہا راجہ پٹیالہ ابھی کمسن تھے۔اور کونسل آف ایجنسی کا زمانہ تھا۔ریاست میں مذہبی آزادی نہ تھی اگر کوئی سرکاری ملازم مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہو جاتا تو اس کو ملا زمت سے برطرف کر دیا جاتا تھا۔چنانچہ ہندو میری برطرفی کے منتظر تھے لیکن خدا تعالیٰ کا ایسا تصرف ہوا کہ جب میں نے اس امر کی رپورٹ افسران کو کی کہ میں نے برضاء رغبت اسلام قبول کر لیا ہے اس لئے کاغذات سرکاری اور سروس بک میں میرا نام کشن لعل کی بجائے عبدالرحیم درج کر لیا جائے۔ان دنوں ہمارے شہر میں ہند و تحصیلدار کی بجائے ایک مسلمان تحصیلدار غلام محی الدین خان تبدیل ہو کر آگئے تھے۔اسی طرح ضلع میں بھی ہندو ناظم (یعنی ڈپٹی کمشنر ) کی جگہ مسلمان ناظم عبد الحمید خان صاحب آگئے تھے۔تبدیلی مذہب کے متعلق ایکشن لینا ناظم صاحب اور دیوان صاحب ( یعنی کمشنر ) کے اختیار میں تھا یعنی ناظم صاحب کی سفارش پر دیوان صاحب ملازمت سے برطرف کر سکتے تھے۔لیکن ہوا یہ کہ جونہی میری درخواست تحصیلدار صاحب کی طرف سے ناظم صاحب کی خدمت میں بھجوائی گئی۔انہوں نے دیوان صاحب کی خدمت میں رپورٹ کرنے کی بجائے میرے نام کی تبدیلی کے لئے