اصحاب احمد (جلد 10) — Page 28
28 اکبر شاہ خاں نے بیعت کر لی۔یہ میرے بیعت نہ کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ مجھے مولانا غلام حسن خانصاحب پشاوری اور مولانا محمد علی صاحب سے بہت حسن عقیدت تھی۔اور ان دونوں صاحبوں نے بیعت نہیں کی تھی۔مولانا غلام حسن خانصاحب سے ان کے تقوی طہارت کی وجہ سے اور وہ میرے استاد بھی تھے اور مولانا محمد علی صاحب سے ان کی خدمات دینی کی وجہ سے۔اس کے چند دن بعد مولوی محمد علی صاحب تو قادیان سے لا ہور آ گئے بعد میں ان کا سارا سامان اور کتابیں صندوقوں میں بند کر کے میں نے قادیان سے گڑوں پرلد وا کر بٹالہ اور بٹالہ سے بذریعہ ریل لاہور بھجواد ہیں۔بعد میں مولوی صدر الدین صاحب بھی لاہور آگئے اس کے ایک ماہ بعد میں بھی چار ماہ کی رخصت لے کر لاہور آ گیا۔اس ایک ماہ میں جو میں قادیان رہا دوستوں نے کوشش کی کہ میں بیعت کرلوں مگر میں انکار کرتا رہا۔ایک دن حضرت میر ناصر نواب صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ تم نے تو خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت میاں صاحب خلیفہ ہو گئے ہیں تو اب مانتے کیوں نہیں میں نے جواب دیا کہ میرا خواب تو بالکل سچا تھا جس کے مطابق حضرت میاں صاحب خلیفہ ہو گئے مگر اس میں یہ تو نہیں تھا کہ میاں صاحب کے عقائد بھی صحیح ہیں۔یا میں نے بیعت بھی کی ہے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اور دوسرے دوست بھی کہتے رہے۔مگر میں نے بیعت نہ کی میری بیوی نے بیعت کر لی تھی۔ان کو میں نے منع نہ کیا۔لاہور آ کر احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی بنیاد اکبر شاہ خانصاحب نجیب آبادی کی بیعت کا اندراج البدر بابت ۲۴/۴/۳۰ (صفحہ ۱۱۳ کالم ۲ ) میں موجود ہے الفضل میں مرقوم ہے کہ منشی اکبر شاہ خانصاحب نجیب آبادی نے بھی رویاء صالحہ کی بناء پر بیعت کر لی ” ( مورخہ از ۱/۴/۱۴ صفحه ۱ استفسار پر کہ کس کس نے جمعیت مولوی محمد علی صاحب پہلے روز بیعت خلافت نہ کی تھی ماسٹر صاحب نے لکھا ہے : ”مولوی صدرالدین صاحب۔اکبر شاہ خاں فقیر اللہ ( یعنی خود ماسٹر صاحب) یہ قادیان کے باشندے تھے اور تو کوئی یاد نہیں۔اکبر شاہ خاں صاحب کے احمدیت سے منقطع ہونے کی وجہ دریافت کرنے پر ماسٹر صاحب فرماتے ہیں۔اکبر شاہ خاں قادیان سے لاہور آ گیا پھر نجیب آباد چلا گیا مجھے معلوم نہیں وہاں اسے کیا ابتلاء آیا۔“ محترمہ صحابہ تھیں۔استفسار پر ماسٹر صاحب نے فرمایا کہ باوجود یکہ تمیں سال کے طویل عرصہ تک میں نے بیعت خلافت نہیں کی لیکن وہ بیعت خلافت پر قائم رہیں۔گویا یہ خاص شرف ان کو حاصل رہا۔وہ تحریک جدید میں پانچ روپے ماہوار دیا کرتی تھیں۔۱۰ ستمبر ۱۹۶۰ء کو وفات پا کر قطعہ صحابہ بہشتی مقبرہ ربوہ مدفون ہوئیں۔اللهم اغفرلها وارحمها۔آپ کے بطن سے ماسٹر صاحب کو تیرہ بچے عطا ہوئے۔دو بچپن میں وفات پاگئے گیارہ زندہ ہیں جن کا ذکر شجرہ میں کر دیا گیا ہے۔ان میں سے لفٹنٹ نعمت اللہ صاحب اور رضاء اللہ صاحب نے بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر