اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 24 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 24

24۔ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا۔آپ کا جواب آیا کہ آپ کیلئے بہتر ہے آپ قادیان رہ جائیں۔اس خط کے ملتے ہی میں نے رخصت کی درخواست دی اور قادیان چلا گیا۔۲۰ جولائی ۱۹۰۶ء کو میں رخصت پر قادیان گیا اور پھر واپس میانوالی نہ گیا۔اس کے بعد مرزا سلطان احمد صاحب اور دوسرے افسروں کے بھی مجھے پرائیویٹ خطوط آئے کہ آپ غلطی کر رہے ہیں۔اور ایسا عدہ موقع کھو رہے ہیں۔چنانچہ میری رخصت کے ایام میں میری تعیناتی حصار کے ضلع میں بطور قانونگو ہوگئی۔اور حکم مجھے قادیان پہنچا۔مگر میں نے انکار لکھ دیا اور پھر قادیان کی رہائش اختیار کرلی۔۲۲ جولائی ۱۹۰۶ کو مجھے پھر رسالہ ریویو آف ریلیجنز کا ہیڈ کلرک پچیس روپے ماہوار پر رکھا گیا۔یہ مینجر خود مولانا محمد علی صاحب تھے اور انجمن کے سیکرٹری بھی یہی تھے۔ریویو آف ریلیجنز اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا تھا۔اور دونوں رسالوں کی چھپائی وغیرہ اور خریداروں سے خط و کتابت مجھے کرنی پڑتی تھی۔۱۹۰۷ء میں انجمن کے ہر ایک صیغہ کا ایک نائب ناظم مقرر کیا گیا جو اس صیغہ کا ذمہ دار ہوتا۔اور اس صیغہ کی طرف سے انجمن کی انتظامیہ کمیٹی کا نمبر بھی ہوتا۔یکم جون ۱۹۰۷ء کو مجھے نائب ناظم میگزین مقرر کیا گیا۔اورصدرانجمن احمدیہ کی انتظامیہ کمیٹی کا ممبر مقرر ہوا۔* اب میری تنخواہ میں روپے ماہوار کی گئی۔۳۱ اگست ۱۹۰۷ ء سے ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی دسویں جماعت کو ریاضی پڑھاتا رہا۔۱۵ فروری ۱۹۰۸ء کو پھر میرا سارا وقت مدرسہ میں بطور مدرس ریاضی لگا دیا گیا۔ย حضرت مولوی نورالدین صاحب کا صدر انجمن کے فیصلہ کا احترام کرنا:۔جب قادیان میں انجمن قائم ہوئی تو انجمن کی نقدی رکھنے کے لئے حضرت نواب محمد علی خانصاحب مرحوم نے ایک لوہے کی زیر ”خبار قادیان بدر میں مرقوم ہے:۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب جو پہلے مدرسہ تعلیم الاسلام کے مدرس تھے اور کچھ عرصہ سے میانوالی محکمہ بندوبست میں کام کرتے تھے دفتر ریویو آف ریجنز کے ہیڈ کلرک مقرر ہو کر قادیان واپس آگئے ہیں اللہ تعالیٰ یہ تقر ر ان کے واسطے اور دفتر میگزین کے واسطے موجب خیر و برکت کا کرے۔(9 ) تقمہ حقیقت الوحی صفحہ ۵۷ پر ۱۹۰۷ء کے تعلق میں آپ کے نام کے ساتھ یہ عہد ہ درج ہے۔