اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 436 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 436

436 مولوی فضل دین صاحب بھیروی مالک مطبع ضیاء الاسلام قادیان کے خلاف زیر سماعت تھا۔منشی حبیب الرحمن صاحب ایک پیشی میں شمولیت کے لئے براستہ امرتسر گورداسپور کا سفر کر رہے تھے۔کہ سماعت کنندہ مجسٹریٹ درجہ اول لالہ چند ولال بی۔اے بھی اسی ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔وہ امرتسر میں ٹرین کے تبدیلی کے وقت قلی کی سہولت کے بارے میں پریشان تھے۔منشی صاحب نے ان کی مدد کی۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب لاہور سے اس مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور جارہے تھے۔منشی صاحب نے انہیں بتایا کہ مجسٹریٹ رخصت سے واپس آگئے ہیں۔چنانچہ خواجہ صاحب نے آکر مجسٹریٹ سے ملاقات کی۔گورداسپور منشی صاحب اور خواجہ صاحب حضور کی قیام گاہ پر پہنچے تو حضرت اقدس اور حضرت میر ناصر نواب صاحب وہاں تشریف رکھتے تھے۔(بیان بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب) یہ مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کا جنوری ۱۹۰۳ء میں دائر کیا گیا تھا۔پرائیویٹ طور پر بعض بااثر افراد نے اس مجسٹریٹ کو انتقام کے لئے مشتعل کیا اور کہا کہ ساری قوم کی نظر آپ پر ہے۔ملزم آپ کا شکار ہے۔مجسٹریٹ نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ پیشی پر آپ کو گرفتار کر لے گا۔اس وقت ظاہری حالات مجسٹریٹ کی کارروائی کے موافق تھے۔انتقال مقدمہ کی درخواست اور پھر چیف کورٹ سے اس بارے میں اپیل نا منظور ہو چکی تھی۔مجسٹریٹ کے اس عزم کی اطلاع حضور کو اس وقت ملی جب حضور پیشی کے لئے ایک رات پہلے گورداسپور پہنچے۔اس پر حضور نے نہایت جلال سے فرمایا کہ میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ میں کیا کروں میں نے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ پاؤں میں لوہا پہنے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔اللہ تعالے نے اس پیشی میں گرفتاری سے بچانے کا یہ سامان کیا کہ آپ کو خالص خون کی قے ہوئی انگریزی ڈاکٹر کو بلایا گیا۔اس نے کہا کہ بڑھاپے میں خون کی قے آنا خطر ناک ہے اور سرٹیفکیٹ دیا کہ ایک ماہ کے لئے آپ کو میں کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیں سمجھتا۔حضور پیشی سے پہلے ہی قادیان روانہ ہو گئے۔سرٹیفکیٹ دیکھ کر اپنے منصوبہ کو خاک میں ملایا کر مجسٹریٹ بہت تلملایا اور دوسرے روز ڈا کٹر مذکور کی شہادت لی جس نے شہادت دی کہ میرا سرٹیفکیٹ بالکل درست ہے۔(۴) (۸۴) ایک پیشی میں اس مجسٹریٹ (چندو لال) نے حضور سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو نشان نمائی کا بھی دعوی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور تھوڑی دیر کے بعد آپ نے بڑے جوش کے ساتھ فرمایا کہ جونشان چاہیں میں